خلیج عمان میں امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی ہیلی کاپٹر نے پاناما پرچم بردار تجارتی جہاز کے رڈر یعنی پتوار کو نشانہ بنایا۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
خیال رہے کہ رڈر (پتوار) جہاز کی سمت تبدیل کرنے میں مدد دینے والا اہم حصہ ہوتا ہے اس لیے اسے نشانہ بنانا جہاز کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش تصور کی جا رہی ہے۔
امریکا نے الزام عائد کیا کہ اس جہاز نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد عائد امریکی بحری ناکہ بندی پر مامور اہلکاروں کی وارننگز کو نظر انداز کیا اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ گروپ وینگارڈ اور دیگر بحری سلامتی کے ذرائعوں نے بھی تصدیق کی کہ امریکی ہیلی کاپٹر نے جس جہاز کو نشانہ بنایا اس کی شناخت ویلا نوا کے نام سے ہوئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ جہاز خلیج عمان میں پاکستان کے ساحل سے تقریباً 71 ناٹیکل میل دور تھا جب اسے میزائل سے نشانہ بنائے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ سمندری سلامتی کے ذرائع کے مطابق جہاز کو میزائل لگنے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی جس پر بعد میں قابو پا لیا گیا۔
یاد رہے کہ اس واقعے کو پہلے میزائل حملہ قرار دیا جا رہا تھا تاہم بعد میں امریکی ذریعے نے بتایا کہ امریکی فوجی ہیلی کاپٹر نے جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔ اس لیے واقعے کی تفصیلات ابھی مزید واضح ہونا باقی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حملے کے بعد جہاز کا عملہ ایک دوسرے شہری بحری جہاز پر منتقل ہونے کی کوشش کرتا دکھائی دیا۔
اس واقعے میں فوری طور پر کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ بعض ابتدائی رپورٹس میں جہاز پر موجود 17 افراد کے محفوظ ہونے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ خلیج عمان اس وقت بحیرہ عرب، آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک اہم بحری راستہ ہے۔ یہاں کسی تجارتی جہاز کو امریکی فوج کی جانب سے براہ راست نشانہ بنائے جانے کی خبر نے خطے میں پہلے سے موجود بحری کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی سے امریکا کی ایران کی بحری ناکہ بندی تاحال جاری ہونے بلکہ اس کے سخت ترین ہونے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششں ہے۔
واقعے کی مزید تفصیلات اور امریکی فوج کی جانب سے باضابطہ بیان سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ جہاز نے امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی یا نہیں اور کارروائی کے دوران کس نوعیت کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔