پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے، بھارت راہ راست پر نہ آیا تو براہ راست جواب دیا جائے گا، وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں یادگار افتتاح کی تقریب سے خطاب کیا


ویب ڈیسک August 13, 2026
فوٹو: اسکرین گریب

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی کی ایک،ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے اگر بھارت راہ راست پر نہ آیا تو براہ راست جواب دیا جائے گا، ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں یاد گار افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یادگار فتح ہماری عظیم قوم کے عزم و ہمت مسلح افواج کے زور بازو، ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور دشمن کے مقابلے میں ان کی برتری کی علامت ہے، ہماری بہادر مسلح افواج اور اس کی دلیر قیادت کے ہمراہ اس عظیم الشان یادگار فتح کا افتتاح کرتے ہوئے ہمارے دلوں میں جذبات کا طوفان امڈ رہا ہے اور آرزوں کا سمندر ٹھاٹیں مار رہا ہے، جذبات پاکستان کی عظیم الشان فتح اور اس کی خوشی کے اور آرزوئیں اپنے وطن کو مزید خوب صورت، مستحکم اور خوش حال بنانے کے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پوری قوم کو معرکہ حق میں عظیم الشان کامیابی پر صمیم قلب سے مبارک باد اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اس فیصلہ کن مرحلے پر ان کی دلیرانہ قیادت ہماری مسلح افواج نے دشمن کو عبرت ناک شکست دی وہ تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یادگار فتح کے بامقصد ڈیزائن اور نفیس طرز تعمیر انتہائی کم وقت میں ہوئی ہے، اس حوالے سے پوری ٹیم کو مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے اس کے لیے کام کیا، یادگار فتح صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ان عظیم شہدا کو خراج عقیدت ہے جنہوں نے دفاع وطن کے لیے شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان غازیوں کو خراج تحسین ہے جنہوں نے دشمن کے مقابلے میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا اور یہ یادگار اس عظیم قوم کے اتحاد کی علامت ہے جو مشکل ترین وقت میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ فتح پاکستانی عوام، افواج کی فتح ہے اور یہ فتح ہم سب کی ماتھے کا جھومر ہے، ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم عزت اور وقار کے ساتھ امن کے لیے کھڑے ہیں اور اس خطےمیں استحکام کی ضمانت بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کے معرکے کا یہ پیغام پوری دنیا تک پہنچ چکا ہے اور دنیا جانتی ہے کہ اس معرکے نے پاکستان کے وقار میں ایسا غیرمعمولی اضافہ کیا ہے، جس کی عصر حاضر میں مثال نہیں ملتی، یہ حقیقت اب بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تو اس کے لیے ہمارا پیغام واضح ہے کہ وہ پانی عبرت ناک شکست کو یاد رکھے اور اگر آئندہ کسی نے بھول سے بھی پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کو چیلنج کیا تو اس سے مئی 2025 سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ برس جنگ میں شکست کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ اور غیرقانونی طور پر معطل کرکے خود کو امن کا دشمن ثابت کیا ہے، میں واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے، بھارت راہ راست پر نہ آیا تو اس سے براہ راست جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یادگار فتح ہمارے اس قومی سفر کا ایک سنگ میل ہے جس کی منزل ایک خوش حال، مستحکم اور فلاحی پاکستان ہے، ایسا پاکستان جو ترقی یافتہ اقوام کی صف اول میں نمایاں دکھائی دے، یہ سفر دفاع وطن کا بھی ہے اور تعمیر وطن کا بھی، ہم نے معاشی ترقی کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اور نئی نسل کے لیے ترقی کے دروازے کھولنے ہیں، انسانی وسائل کو مزید ترقی دینے ہیں تاکہ ارض پاک میں ترقی  و خوش حالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو جہاں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بسنے والے پاکستانی مل کر ترقی کی منازل طے کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی اور اے آئی نے تبدیلی پیدا کی ہے، یہ ایک نئی دنیا ہے، جس میں جینے کے طور طریقے بھی نئے ہیں جو آئی ٹی اور اے آئی کے ساتھ جینے کا ہنر جانتی ہو، ان تبدیلیوں مطابق خود ڈھالنے ہے، نئی چیزیں ایجاد کریں اور نئی دنیا آباد کریں اور وعدہ ہے حکومت حتی المقدر تمام وسائل فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم خطے کو تنازعات سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں، ہم تنازعات کو انصاف اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہماری کوشش ہے کہ دنیا نئے تنازعات سےمحفوظ رہے، یہی وہ جذبہ تھا جس کے تحت پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی کردار ادا کیاْ

شہباز شریف نے کہا کہ پچھلے سال برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے ایک دفاعی معاہدہ طے پایا اور اب ترکیہ بھی مکہ میں طے پائے جانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کا حصہ بن چکا ہے، یہ مشرق وسطیٰ کے لیے امن کی بشارت اور عالم اسلام کے لیے امن کی نوید اور ساری دنیا کے لیے امن کا پیغام ہے، اس معاہدے کو حقیقت کا روپ دینے میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کاوشیں کی ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لگن سے کام کیا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے یادگار فتح کا افتتاح کردیا۔