لاہور کے علاقے بادامی باغ میں سب انسپکٹر عدیل اور ہیڈ کانسٹیبل اسد کو فائرنگ سے شہید کرنے کا معاملہ، تھانہ بادامی باغ میں تین ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جب کہ شیخوپورہ میں باپ بیٹا کے ساتھ پولیس مقابلے کا مقدمہ تھانہ مرید کے میں درج کرلیا گیا۔
مقدمہ تھانہ لاری اڈا کے انسپکٹر نسیم خان کی مدعیت میں درج کیا گیا، مقدمہ انسداد دہشت گردی، قتل، اقدام قتل سمیت آٹھ دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ چند دہشت گرد فیاض بٹ کے مکان پیشے خان چوک بادامی باغ میں دہشت گردی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
مقدمہ متن کے مطابق سب انسپکٹر عدیل، عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل اسد علی ملزمان کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو فیاض بٹ اور اس کے دو ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔
مقدمہ متن کے مطابق فیاض بٹ نے زمین پر گرے ہوئے دونوں پولیس اہلکاروں کے اوپر چڑھ کر اپنے پستول سے فائرنگ کی۔
ملزمان کی فائرنگ سے راہ گیر زاہد امین بھی زخمی ہوگیا، ملزمان دیگر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
شیخوپورہ میں باپ بیٹا کے ساتھ پولیس مقابلے کا مقدمہ تھانہ مرید کے میں درج کرلیا گیا، مقدمہ ایس ایچ او تھانہ صدر مرید کے انسپکٹر عامر افضل کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، بارودی مواد رکھنے ، قتل اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیںِ۔ متن میں کہا گیا ہے کہ تین مسلح ملزمان عبدالحفیظ نامی شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور فیملی کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنالیا،ملزمان نے عبدالحفیظ کی اہلیہ اور تین بچوں کو یرغمال بنا رکھا تھا، پولیس نے مکان کو گھیرے میں لے کر ملزمان کو ہتھیار ڈالنے اور سرنڈر کرنے کا اعلان کیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہےکہ ملزمان نے فائرنگ کر دی، پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور دو طرفہ فائرنگ سے پولیس کی گاڑی کو نقصان پہنچا، فائرنگ رُکنے پر دیکھا تو گھر کے صحن میں دو لاشیں پڑی تھیں اور ان کے ساتھ اسلحہ بھی پڑا تھا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ہلاک ملزمان کی شناخت فیاض بٹ اور ریحان بٹ کے ناموں سے ہوئی، ہلاک ملزمان لاہور میں تین پولیس جوانوں کو شہید اور تین کو زخمی کر کے فرار ہوئے تھے۔