غزہ میں جنگ کے خاتمے اور آئندہ کے انتظام سے متعلق مذاکرات میں حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ غزہ میں موجود حماس کے تمام ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ سُرنگوں کو بھی ختم کیا جائے گا۔ انھیں مستقبل میں دوبارہ استعمال نہ کیا جاسکے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ حماس کے مکمل غیرمسلح ہونے تک اسرائیلی فوج کو غزہ سے واپس بلانے یا دوبارہ تعینات کرنے کا فیصلہ نہیں ہوگا۔
بورڈ آف پیس کے عہدیدار کے بقول اس انتظام میں اسرائیل کے لیے اپنے دفاع کا حق بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اگر حماس دوبارہ دہشت گردی یا مسلح ہونے کی کوشش کرتی ہے تو اسرائیل کارروائی کرسکے گا۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر کی سربراہی میں بورڈ آف پیس کے وفد اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے غزہ منصوبے پر پیش رفت کے لیے بورڈ آف پیس کے وفد کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وہ غزہ کے معاملے کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے جاری کوششوں پر شکر گزار ہیں۔
ان کے بقول یہ اقدامات صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے مطابق غزہ میں اگلے مرحلے کی جانب پیش رفت کے لیے کیے جارہے ہیں۔
اسرائیلی صدر نے کہا کہ انھیں یہ بات متاثر کن لگی کہ منصوبے میں اسرائیل کے سیکیورٹی مفادات کو اہم اور مرکزی عنصر کی حیثیت حاصل ہے۔
انھوں نے بورڈ آف پیس کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ مقصد اسرائیل، غزہ کے عوام اور پورے خطے کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔