اگر بیسویں صدی کو توپوں کی صدی کہا جائے تو اکیسویں صدی کو ’’بیانیوں کی صدی‘‘کہنا شاید زیادہ درست ہوگا۔ آج کسی قوم کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ اس صلاحیت سے بھی ناپی جاتی ہے کہ وہ دنیا کو اپنی کہانی کس انداز میں سناتی ہے۔
ایک زمانہ ایسا تھا جب بالی ووڈ میں ’’کشمیر‘‘ کا مطلب صرف حسن، محبت اور سیاحت ہوا کرتا تھا۔ 1950ء، 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں کشمیر فلم سازوں کے لیے قدرتی اسٹوڈیو تھا۔ برف پوش پہاڑ، ڈل جھیل، چنار کے درخت اور پہاڑوں میں گونجتے رومانوی گیت، یہی وہ تصویر تھی جو لاکھوں بھارتی ناظرین کے ذہن میں نقش ہوئی۔
1990ء کی دہائی میں بھارتی سینما نے پہلی بار کشمیر کو قومی سلامتی کے تناظر میں پیش کرنا شروع کیا۔ فلم ’’روجا‘‘ (1992) اس تبدیلی کی علامت بن کر سامنے آئی۔ اس فلم میں ایک عام عورت کی اپنے اغوا شدہ شوہر کو واپس لانے کی جدوجہد دکھائی گئی، مگر پس منظر میں عسکریت، سرحدی تنازع اور قومی وفاداری کا بیانیہ نمایاں تھا،یہ وہ مرحلہ تھا جب بالی ووڈ نے صرف تفریح فراہم کرنا چھوڑ دی اور قومی بیانیے کی تشکیل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا شروع کیا۔
2000ء کے بعد کشمیر پر بننے والی فلموں میں مزید تنوع آیا۔ ’’مشن کشمیر‘‘ میں انتقام، دہشت گردی اور جذباتی کشمکش کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ بعد میں ’’حیدر‘‘ جیسی فلم نے نسبتاً مختلف زاویہ اختیار کیا۔ اس میں ایک ایسے نوجوان کی کہانی دکھائی گئی جو اپنے لاپتہ والد کی تلاش میں نکلتا ہے اور رفتہ رفتہ تشدد، انتقام اور شناخت کے بحران میں الجھ جاتا ہے۔
2014ء کے بعد کشمیر پر بننے والی فلموں میں ایک اور نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔ اب کہانی صرف دہشت گردی یا عسکریت تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی شناخت، آئینی تبدیلیوں اور ریاستی پالیسیوں کے گرد گھومنے لگی۔ ’’حیدر‘‘ نے ایک طرف عام کشمیری خاندان کے المیے اور گمشدگیوں کا پہلو اجاگر کیا، تو دوسری طرف ’’دی کشمیر فائلز‘‘ (2022) نے کشمیری پنڈتوں کی 1990ء کی دہائی میں ہونے والی نقل مکانی کو مرکزی موضوع بنایا۔ اس کے بعد’’آرٹیکل 370‘‘ (2024) نے آئین ہند کی دفعہ 370 کی منسوخی اور اس کے گرد موجود ریاستی بیانیے کو اپنی کہانی کا محور بنایا۔
اگر غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھا جائے تو Article 370 ایک پروانڈیا (یعنی بھارتی ریاست کے موقف سے ہم آہنگ) سیاسی تھرلر ہے۔ اس کا مرکزی بیانیہ بھارتی حکومت کی 2019 کی آئینی پالیسی کی حمایت کرتا ہے اور اس کا جھکاؤ واضح طور پر بھارتی ریاست اور بھارتی حکومت کے موقف کی طرف ہے۔
فلم کا بنیادی بیانیہ یہ ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی ایک ضروری اور درست فیصلہ تھا،اس اقدام سے کشمیر میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کو کمزور کیا گیا،بھارتی سیکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مثبت اور موثر کردار میں دکھایا گیا۔ فلم میں کشمیر کی بھارت کے ساتھ مکمل انضمام کی حمایت کی گئی جب کہ پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا گیا۔
فلم میں بھارتی موقف یوں پیش کیا گیا کہ آرٹیکل 370 کی وجہ سے کشمیر میں بدعنوانی، علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو تقویت ملتی رہی،خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنا قومی سلامتی اور ترقی کے لیے ضروری تھا،بھارتی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے اقدامات کو کامیاب اور جائز قرار دیا گیا جب کہ کشمیری عوام کے ایک حصے کو ترقی اور استحکام کے خواہاں کے طور پر دکھایا گیا۔
پاکستانی ریاست کے موقف کو فلم میں مثبت انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام دکھایا گیا۔ اسی طرح پاکستان کے کشمیر سے متعلق موقف کو بھارتی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے والے بیانیے کے تناظر میں پیش کیا گیا۔پاکستانی ریاست یا اس کے دلائل کی تفصیلی نمائندگی نہیں کی گئی۔
غیر جانبدار فلمی ناقدین اور بعض سیاسی تجزیہ کار بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ فلم نے مسئلے کے مختلف زاویوں کے بجائے بنیادی طور پر ایک ریاستی نقطہ نظر پیش کیا، جب کہ کشمیری عوام کے متنوع تجربات اور آراء کو محدود جگہ دی گئی۔ ناقدین کے مطابق کشمیر جیسے پیچیدہ تاریخی اور سیاسی مسئلے کو فلم نے ایک نسبتاً سادہ ’’اچھے اور برے ‘‘کی کہانی میں تبدیل کر دیا، جب کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔کسی بھی فلم کا سب سے طاقتور پہلو اس کا کیمرہ نہیں، بلکہ اس کا انتخاب ہوتا ہے۔ وہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون سا کردار ہیرو ہوگا، کس کا درد زیادہ دکھایا جائے گا، کس کی خاموشی پس منظر میں رہے گی اور کون سا واقعہ پوری کہانی کا مرکز بنے گا۔ یہی انتخاب آہستہ آہستہ اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔
دنیا کی بڑی طاقتیں اس حقیقت کو دہائیوں پہلے سمجھ چکی تھیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران اور اس کے بعد ہالی ووڈ نے امریکی فوج، جمہوریت اور قومی اقدار کو مضبوط بیانیے کے ساتھ پیش کیا۔ سرد جنگ میں سوویت یونین نے اپنے نظریات کو فلموں کے ذریعے فروغ دیا۔ چین آج بھی اپنی تاریخ، تہذیب اور قومی ترقی کو عالمی ناظرین تک پہنچانے کے لیے فلم اور ڈیجیٹل میڈیا پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔ جنوبی کوریا نے فلموں، ڈراموں اور موسیقی کے ذریعے اپنی ثقافت کو دنیا بھر میں مقبول بنا دیا۔
اس پس منظر میں اگر بھارت کشمیر پر فلمیں بناتا ہے تو یہ صرف فلمی سرگرمی نہیں بلکہ ثقافتی سفارت کاری اور ’’سافٹ پاور‘‘ کے ایک وسیع تر تصور کا حصہ بھی ہے۔ کئی بین الاقوامی تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ بالی ووڈ کی عالمی رسائی اسے صرف تفریحی صنعت نہیں رہنے دیتی، بلکہ وہ رائے عامہ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
اگر ایک ملک اپنی کہانی مسلسل دنیا کو سناتا رہے اور دوسرا اپنی کہانی موثر انداز میں بیان ہی نہ کر سکے، تو عالمی رائے عامہ کس کے زیادہ قریب ہوگی؟یہ سوال صرف کشمیر کا نہیں، بلکہ ابلاغ، صحافت اور قومی حکمت عملی کا بھی ہے۔اسی لیے دنیا کی جامعات میں فلم کو صرف فن نہیں بلکہ سیاسی ابلاغ، سماجی نفسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔
کشمیر کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ ابتدا میں فلموں نے وادی کو ’’زمین پر جنت‘‘کے طور پر پیش کیا، پھر اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی علامت بنایا، بعد ازاں انسانی المیے، شناخت، نقل مکانی، قومی سلامتی اور آئینی تبدیلیوں کو مختلف زاویوں سے بیان کیا۔
آج ریاستیں سینما کو ’’سافٹ پاور‘‘ کا اہم ذریعہ سمجھتی ہیں۔ امریکی محقق جوزف نائے نے سافٹ پاور کا تصور پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ثقافت، اقدار اور میڈیا بھی اتنے ہی طاقتور ہتھیار ہو سکتے ہیں جتنے فوجی وسائل، بالی ووڈ اس کی ایک نمایاں مثال ہے، کیونکہ اس کی فلمیں صرف بھارت میں نہیں بلکہ ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دنیا کے کئی حصوں میں دیکھی جاتی ہیں۔
اب تک پاکستان میں بھارتی فلم آرٹیکل 370 کے جواب میں یا اس سے متعلق موضوع پر کوئی فیچر فلم نہیں بنائی گئی، نہ ہی کسی نجی ٹی وی چینل نے کوئی ایسا ڈرامہ پیش کیا ہے۔البتہ پاکستانی فلم ساز ابراہیم بلوچ نے ''Article 370'' کے نام سے تقریباً 16 منٹ کی ایک مختصر فلم بنائی۔بھارت میں کشمیر کے موضوع پر 50 سے زائد مختلف فلمیں اور ویب سیریز بن چکی ہیں جب کہ ہمارے ہاں 10 کے قریب بنی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنی تاریخ، اپنی ثقافت اور اپنے موقف کو اسی فنی معیار، تحقیق اور تسلسل کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر شکایت صرف دوسروں کے بیانیے سے نہیں، اپنی خاموشی سے بھی ہونی چاہیے کیونکہ اکیسویں صدی میں قومیں صرف سرحدوں پر نہیں، کہانیوں کے میدان میں بھی فتح حاصل کرتی ہیں۔