غیر قانونی دولت واپس لائیے

سوئس بینکوں میں کروڑ پتی پاکستانیوں کے 200 بلین ڈالر جمع ہیں،


Editorial August 25, 2014
ایک وزیراعظم کو سپریم کورٹ کی جانب سے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں اپنی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے ، فوٹو:فائل

KHANEWAL: سوئس بینکوں میں موجود پاکستانیوں کی دولت کا سُراغ لگانے کے معاہدے کے لیے بالآخر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیم سوئس ٹیکس اتھارٹیز کے ساتھ مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگئی۔اسے پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے انتہائی نازک موڑ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کہا جاسکتا ہے کیونکہ 60 بلین ڈالر کے مقروض مادر وطن کے دولتمندوں کے 200 بلین ڈالرز سوئس بینکوں میں جمع ہونے کی اطلاع خاصی تہلکہ خیز ثابت ہوئی تھی۔

چار ماہ قبل وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی کے ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سوئس بینکوں میں کروڑ پتی پاکستانیوں کے 200 بلین ڈالر جمع ہیں، باور کیا جاتا ہے کہ یہ رقم لوٹ مار کا نتیجہ ہے اور اسے ان عناصر نے سوئس بینکوں میں رکھا ہے جن کو خدشہ ہے کہ اگر وطن عزیز کو کبھی برے دن دیکھنے پڑے تو ان کے اچھے دن سوئس بینکوں میں چپکے سے جمع اس رقم کے طفیل اچھی طرح بیرون ملک گزر جائیں۔

بلاشبہ کرپشن کے ذریعے حاصل ہونے والی مبینہ رقم انفرادی سطح پر پاکستان کے معاشی استحصال کی بدترین شکل ہے۔ محب وطن دولت مندوں کا یہ شیوہ تو نہیں ہوتا ، تاہم اتنی بڑی رقم کے بارے میں طلسم ہوشربا جیسی اطلاعات اب جاکر قوم کے سامنے آئی ہیں اس لیے اس سمت میں پوری ریاستی اور حکومتی ذمے داری، سنجیدگی، مالیاتی شواہد اور بدعنوانی کے مکمل کوائف کے ساتھ سوئس حکام سے قانونی، عدالتی اور مالیاتی پہلوؤں پر بات چیت کو حتمی شکل دے کر لوٹی ہوئی رقم وطن واپس لائی جائے، اور ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو اپنی دولت غیر ملکی بینکوں میں چھپا کر قوم کو معاشی بدحالی کے اندھیروں میں دھکیلتے رہے۔

واضح رہے ملک کے ایک وزیراعظم کو سپریم کورٹ کی جانب سے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں اپنی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ خط لکھنے یا نہ لکھنے کو افسوس ناک سیاسی استعارہ کا درجہ دیا گیا ، سوئس بینکوں کی کہانی کو کئی بار ڈرامائی موڑ دیے گئے مگر کوئی ٹھوس پیش قدمی نہ ہوسکی اور قوم قرضوں کے بوجھ تلے کل بھی دبی تھی اور آج بھی دبی ہوئی ہے ، معاشی استحکام ایک خواب بنا رہا۔

امید کی جانی چاہیے کہ سوئس حکام سے متعلقہ خفیہ اکاؤنٹ ہولڈرز جن میں سیاست دانوں، بیوروکریٹس، صنعتکاروں، سابق فوجی جرنیلوں ، اور نو دولتیوں کے نام لیے جاتے ہیں کے بارے جملہ کوائف ، ٹھوس تحقیقاتی مواد اور شواہد جلد قوم کے سامنے لائی جائیں گی ۔ اخباری اطلاع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیم سوئس ٹیکس حکام کے ساتھ دوہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے میں ترامیم بارے فوری مذاکرات شروع کرے گی اور معاہدہ میں ترامیم کے تحت ایسی شقیں شامل کرنے پر بات چیت ہوگی جس کے تحت پاکستانی ٹیکس اتھارٹیز سوئٹرزلینڈ کے بینکوں میں موجود پاکستانیوں کی دولت بارے معلومات حاصل کرسکے گی اورسوئس ٹیکس اتھارٹیزپاکستان میں موجودسوئس باشندوں کے بینک اکائونٹس بارے معلومات حاصل کر سکے گی۔

ترجمان نے بتایا کہ ابھی ابتداء ہے یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوہرے ٹیکسوں سے بچائو کے ترمیمی معاہدے پر اتفاق کتنے عرصے میں ہوتا ہے اور اس کے لیے مذاکرات کے کتنے رائونڈ ہونگے جب کہ اس بارے میں وزارت خزانہ ذرایع کاکہنا ہے کہ تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی کے ممبر ہونے کے ناطے سوئٹزرلینڈنے ممبر ممالک کے ساتھ سوئس بینکوں میں فرضی اور بے نام اکاؤنٹس میں پڑی دولت بارے معلومات شیئر کی جائیں اور او ای سی ڈی کی سفارش پر سوئٹزرلینڈ نے (Return of Illicit Asset act)متعارف کروایا جاسکے تحت جن ممالک کے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ دوہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے ہیں اور ان معاہدوں میں معلومات کے تبادلے کی کلاز شامل ہیں۔

انھیں متعلقہ ممالک کے باشندوں کے سوئس بینکوں کے اکاؤنٹس بارے معلومات کی فراہمی کو لازمی قراردیا گیا ہے اور اسی کے تحت برطانیہ سمیت دیگرممالک سوئس بینکوںسے معلومات حاصل کررہے ہیں جب کہ انڈیا بھی کوششیں کر رہا ہے، ذرایع کا کہناہے کہ سوئٹزر لینڈ کے ساتھ ہونیوالے دوہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے میں ترمیم کے بعد پاکستان بھی سوئس حکام سے سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے اکائونٹس میں موجود نان ٹیکس آمدنی بارے معلومات حاصل کر سکیں گے اور اس غیرقانونی دولت کی واپسی اور ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکے گا۔

دریں اثنا ملکی اقتصادی حالات دگر گوں ہیں، درآمدی تیل سے بجلی کی پیداوار پر سالانہ 1ہزار500ارب روپے ( 15 ارب ڈالر) خرچ ہورہے ہیں جوکہ سستی بجلی کے لیے ڈیمز کی تعمیراور پاورپلانٹس کی کوئلے پر منتقلی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارے کی بڑی وجہ بیش قیمت درآمدی تیل ہے۔

ادھر ملکی کرنٹ اکائونٹ خسارہ 263 فیصد بڑھ گیا۔ جولائی 2014 میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 45کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جب کہ جاری صورتحال کے باعث ملکی معیشت کو 7 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور ڈالر کی قدر بڑھنے سے بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو درحقیقت مزید معاشی بے بسی اور مقروض رہنے کا عندیہ ہے۔ وقت یہی ہے کہ ارباب اختیار ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور سوئس بینکوں سے 200 بلین ڈالر کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدام کریں ۔