پاک بھارت آبی مذاکرات پیش رفت نہ ہوسکی

بھارتی وفد نے متنازعہ کشن گنگا ڈیم کا ڈیزائن اور سپل وے تبدیل کرنے سے قطعی انکار کر دیا


Editorial August 25, 2014
اگر پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے اس کا صنعتی شعبہ بھی شدید متاثر ہو گا، فوٹو: فائل

FAISALABAD: پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری آبی تنازع حل نہ ہو سکا اور لاہور میں دونوں ممالک کے انڈس واٹر کمشنرز کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ بھارتی وفد نے متنازعہ کشن گنگا ڈیم کا ڈیزائن اور سپل وے تبدیل کرنے سے قطعی انکار کر دیا اور دیگر متنازعہ ڈیموں پر پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کو بھی ماننے سے انکار کر دیا۔

ذرایع کے مطابق مذاکرات میں دریائے جہلم اور دریائے چناب پر مجوزہ ڈیموں کے ڈیزائن کو پیش کیا گیا۔ پاکستان نے دریائے چناب پر چار مجوزہ بھارتی ڈیموں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ان ڈیموں پر سپل ویز نہیں بنا سکتا اگر بنانے ہیں تو اونچی سطح پر بنائے جائیں، سپل ویز اونچی سطح پر نہ بنائے اور ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہم عالمی عدالت میں جا سکتے ہیں۔ پاکستان نے کشن گنگا ڈیم کے ڈیزائن پر اعتراضات کرتے ہوئے بھارت سے دریائوں پر ڈیموں کا ریکارڈ مانگ لیا ہے۔ پاکستان انڈس واٹر کمشنر کے وفد کا کہنا ہے کہ بھارت نے بارشوں اور سیلابوں کے پانی کا ڈیٹا بھی فراہم نہیں کیا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی تنازعات حل کرنے کے لیے سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دریائے راوی اور ستلج کے پانی کا اختیار بھارت کو دے دیا گیا تھا جب کہ دریائے چناب اور جہلم پر پاکستان کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ گزشتہ چند عشروں سے بھارت پاکستان میں پانی کا بحران پیدا کرنے کے لیے دریائے چناب اور جہلم پر آبی ذخائر تعمیر کرنیکے منصوبے بنا رہا ہے۔ پاکستان کئی بار ان منصوبوں پر اعتراضات کرچکا ہے لیکن بھارت پاکستانی اعتراضات کو کبھی خاطر میں نہیں لایا وہ بڑی تیزی سے کشن گنگا ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔

پاکستان نے بھارت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ کشن گنگا ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کی جائے تاکہ پاکستان میں پانی کا بحران جنم نہ لے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے لیکن بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا کرنے پر راضی نہیں ہو رہا۔ پاکستان زرعی ملک ہے اس کی زراعت کا بڑا انحصار دریائے جہلم' دریائے چناب اور دریائے سندھ کے پانی پر ہے۔ اگر بھارت دریائے جہلم اور دریائے چناب پر آبی ذخائر تعمیر کر لیتا ہے تو اس سے اسے ان دریائوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا اور وہ جب چاہے گا پاکستان کا پانی روک کر اس کے لیے مسائل پیدا کر دے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں پانی کا بحران پیدا کر رہا ہے تاکہ پاکستان کی زراعت کو تباہ کیا جا سکے۔ پانی کے بحران کے باعث پہلے ہی پاکستان شدید مسائل کا شکار ہے اس کی لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہو رہی ہے جس سے اس کی زراعت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستانی صوبوں کے درمیان پانی کے مسئلے پر پہلے ہی تنازعات موجود ہیں' اگر بھارتی ڈیموں کے باعث پانی میں مزید کمی ہوتی ہے تو ان تنازعات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ شاید بھارت کی بھی یہی سازش ہے کہ پاکستانی صوبوں کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہو جس سے ملکی سالمیت اور یکجہتی کو نقصان پہنچے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے اس کا صنعتی شعبہ بھی شدید متاثر ہو گا۔ بجلی کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا چلا جائے گا اس طرح پاکستان معاشی لحاظ سے اتنا کمزور ملک ہو جائے گا کہ وہ کسی بھی میدان میں بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔شاید بھارت کی بھی یہی سازش ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر شدید نقصان پہنچایا جائے۔ان حالات کے تناظر میں حکومت پاکستان کو اس مسئلے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے اور فوری طور پر عالمی عدالت سے رجوع کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور بھارت پر بھرپور دبائو ڈالا جائے کہ وہ پاکستان کے لیے پانی کے مسائل پیدا نہ کرے۔

ایک جانب پاکستان میں زیر زمین پانی کم ہوتا جا رہا ہے تو دوسری جانب دریائوں کے پانی میں بھی کمی آتی جا رہی ہے اس صورت حال کا مزید جاری رہنا پاکستان کی زراعت اور صنعت کے لیے نقصان دہ ہے۔ مبصرین ایک عرصے سے اس خدشے کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آیندہ جنگ پانی کے مسئلے پر ہو سکتی ہے جو اس پورے خطے کی بقا کے لیے خطرناک ثابت ہو گی اس لیے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں کو پاک بھارت تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ پوری دنیا میں اس وقت پانی کی کمی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں لہذا ترقی یافتہ اور دیگر ممالک اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

چین' ترکی اور ایران بڑی تعداد میں ڈیم تعمیر کر چکے ہیں' بھارت بھی مستقبل میں پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد ڈیم بنا رہا ہے لیکن ڈیم تعمیر کرتے ہوئے اسے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس سے پاکستان کے لیے مسائل پیدا نہ ہوں۔پاکستان کو بھی مستقبل میں پانی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے آبی ذخائر تعمیر کرنے کی جانب توجہ دینا ہوگی۔