ڈھاکا:
بنگلادیش میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ آج ہوگی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق آج بنگلادیش کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوگی، جس میں حکمران بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر رہنما مرزا فخرالسلام عالمگیر اور 11 جماعتوں کے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار کرنل (ر) اولی احمد آمنے سامنے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلادیش میں یہ صدارتی انتخاب 35 برس بعد پہلی بار حقیقی مقابلے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
صدارتی انتخاب کے سلسلے میں بنگلادیشی پارلیمنٹ (جاتیا سنگساد) میں دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک ووٹنگ ہوگی، جہاں 349 ارکان حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق صدر کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں بلکہ ارکانِ پارلیمنٹ کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ حکمران جماعت بی این پی کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہے، جس کے باعث 78 سالہ مرزا فخرالسلام عالمگیر کو کامیابی کا مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔
مرزا فخر السلام عالمگیر طویل عرصے سے بی این پی کی قیادت کا حصہ رہے ہیں اور موجودہ حکومت میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔
اِن کے مقابلے میں جماعتِ اسلامی کے حمایت یافتہ 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد نے سابق فوجی افسر اور سیاست دان کرنل (ر) اولی احمد کو میدان میں اتارا ہے۔ اگرچہ عددی اعتبار سے اپوزیشن کمزور پوزیشن میں ہے، تاہم مبصرین اس انتخاب کو ملک میں جمہوری عمل کی بحالی کی ایک اہم علامت قرار دے رہے ہیں۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق کامیاب امیدوار جمعہ کی شام بنگابھون میں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد نئی صدراتی مدت کا آغاز ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ شہاب الدین کو معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔