9 ماہ مشرق وسطیٰ کے سمندر میں رہنے کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز وطن روانہ

ابراہم لنکن پر تعینات تقریباً 5 ہزار ملاحوں اور اہلکاروں نے گزشتہ 272 دن سمندر میں گزارے


ویب ڈیسک August 21, 2026

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن 9 ماہ تک مشرقِ وسطیٰ میں تعیناتی اور ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشنز میں حصہ لینے کے بعد جمعرات کو سان ڈیاگو واپسی کے لیے روانہ ہوگیا۔

ابراہم لنکن پر تعینات تقریباً 5 ہزار ملاحوں اور اہلکاروں نے گزشتہ 272 دن سمندر میں گزارے اس دوران جہاز نے صرف دسمبر میں گوام اور بعد ازاں عمان میں مختصر قیام کیا۔

اب اہلکاروں کو وطن واپسی کے لیے تقریباً 13 ہزار میل کا مزید سفر طے کرنا ہے جو 4 سے 5 ہفتوں میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ابراہم لنکن کے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی جلد اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب جاپان میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ پہنچ کر بدھ سے سینٹرل کمانڈ کے ماتحت آپریشنز شروع کرچکا ہے اور اس نے ابراہم لنکن کی جگہ سنبھال لی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے بحرین کے شہر منامہ میں امریکی بحریہ کے اہم سپلائی بیس کی تباہی کے بعد رسد کے مسائل پیدا ہوئے، جس کے باعث ابراہم لنکن پر بنیادی ضروریات کی قلت، پانی کی آلودگی، پلمبنگ کی خرابی اور عملے کی ذہنی صحت سے متعلق مشکلات کی اطلاعات سامنے آئیں۔

امریکی ڈیموکریٹک قانون سازوں نے بھی ان مسائل پر تشویش ظاہر کی، تاہم ایڈمرل بریڈ کوپر نے ان میں سے کئی معاملات کو پرانا مسئلہ قرار دیا۔

امریکی بحریہ اس وقت خلیج فارس سے باہر مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 20 جنگی جہاز برقرار رکھے ہوئے ہے جن میں یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی قیادت میں دو کیریئر اسٹرائیک گروپس، میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے ساتھ ایک ایمفیبیئس ریڈی گروپ اور متعدد ڈسٹرائرز شامل ہیں۔

یہ امریکی جنگی بحری جہاز صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی دوبارہ نافذ کی گئی ناکہ بندی پر بھی عمل درآمد کر رہے ہیں جسے 38 دن ہوچکے ہیں۔