ترک محقق کا حضرت نوحؑ کی کشتی ڈھونڈنے کا دعویٰ

ڈاکٹر خسرو بختیار نے اپنے ریڈار سے زیر زمین کشتی کے ڈھانچے کا سراغ لگایا


سید عاصم محمود August 24, 2026

لاہور:

حضرت نوح ؑ کی کشتی کو انسانی تاریخ میں اس لیے بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ اسی نے عظیم طوفان سے انسان سمیت زندگی کی کئی انواع واقسام بچا کر زمین پر محفوظ رکھا۔ 

مشہور ہے یہ کشتی مشرقی ترکی میں واقع ’’تندروک‘‘ پہاڑ کے ’’دروپینار‘‘ نامی مقام پر ٹھہری جس کی صورت ایک بہت بڑی کشتی سے ملتی ہے۔

ماہرین ارضیات کہتے ہیں کہ یہ 515 فٹ لمبی اور اسکی بناوٹ قدرتی ہے مگر حال ہی میں ممتاز ترک نژاد امریکی عسکری سائنسدان ڈاکٹرخسرو بختیار نے اپنے ایجاد کردہ ’’بختیار ریڈار‘‘سے اْس مقام کے نیچے کی زمین کا معائنہ کیا ہے۔

یہ ریڈار برق مقناطیسی شعاعیں خارج کر کے زیرزمین موجود سبھی اشیاء ڈھونڈ نکالتا ہے،پتہ چلا کہ اس مقام کے نیچے واقعی ایک کشتی نما ڈھانچا موجود ہے۔

اس دریافت نے دنیا بھر کے مذہبی حلقوں میں ہلچل مچا رکھی ہے،ڈاکٹر خسرو اب مع ٹیم اْس مقام پر کھدائی کرنا چاہتے ہیں تاکہ زیرزمین جو کچھ بھی ہے،اسے دنیا والوں کے سامنے لاسکیں۔

قرآن پاک میں کشتی ٹھہرنے کا مقام ’’الجودی‘‘آیا ہے مگر یہ قطعی طور پر واضح نہیں کہ وہ کہاں ہے،دلچسپ بات یہ کہ مقامی ترک کوہ تندروک کی ایک چوٹی کو الجودی کہتے ہیں۔