کراچی:
سندھ میں زخمی افراد کو فوری طبی امداد کی فراہمی سے متعلق قانون کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔
سندھ انجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ ایکٹ سے متعلق آگاہی مہم سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اور راہِ عمل ٹرسٹ کے اشتراک سے شروع کی گئی ہے، جس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نجی اسپتال میں علاج مہنگا ہونے کی صورت میں حکومت اخراجات برداشت کرے گی، جبکہ گن شاٹ یا جلنے کے زخمی مریض کو نجی اسپتال پہنچنے پر فوری طبی امداد دی جائے۔
عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ نجی اسپتال میں علاج کی استطاعت نہ رکھنے والے مریض کو طبی امداد دینے کے بعد سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکو لیگل ایکٹ اور قانون سے پولیس کو بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر صحت سندھ نے کہا کہ حادثات میں لوگ زخمیوں کی مدد سے اس خوف کے باعث گریز کرتے ہیں کہ پولیس انہیں نہ پکڑ لے۔ پولیس اور عوام میں آگاہی پیدا کرکے حادثات میں زخمیوں کی مدد کرنے کا خوف دور کرنا ہے۔
عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ زخمی افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے سروسز اسپتال کے حوالے سے کہا کہ سروسز اسپتال بند نہیں ہورہا بلکہ اسے کے ایم سی اسپتال میں شفٹ کیا جارہا ہے۔
وزیر صحت سندھ نے کہا کہ سروسز اسپتال میں جو ڈاکٹرز ہوتے ہیں وہ کام نہیں کرنا چاہتے۔ وہ وہاں بیٹھنا چاہتے ہیں جہاں او پی ڈی چل رہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو 3 کمروں سے زیادہ کیا ضرورت ہے۔