میانداد کا چھکا اور بھارت کا نفسیاتی معاملہ

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ میانداد کا نام بعد کے بھارتی کرکٹ میڈیا میں ’’ میانداد مومنٹ‘‘ کے طور پر ایک استعارہ بن گیا



اگست 1947میں پاکستان اور بھارت آزاد ممالک کے طور پر دنیا کے نقشے پر تو نمودار ہوئے، مگر بدقسمتی سے صرف بھارت کی انتہا پسند تنظیموں اور بعض حکمرانوں ہی نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا بلکہ بھارتی میڈیا بھی پاکستان کے حوالے سے آج تک ایک خاص نفسیاتی کیفیت میں نظر آتا ہے۔ کھیل تو کھیل ہوتا ہے، اس میں ہار اور جیت دونوں شامل ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کی جانب سے کھیل میں ہار جیت کو بھی بعض اوقات انا کا مسئلہ بنا لیا گیا۔

 اس کی ایک مثال ہمیں 18 اپریل 1986 کو شارجہ میں ہونے والے آسٹریلیا،ایشیا کپ کے فائنل میں ملتی ہے، جس میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی تھی۔ یہ میچ انتہائی دلچسپ تھا اور ہر گیند کے ساتھ صورتحال تبدیل ہو رہی تھی۔ کبھی بھارت کی پوزیشن مضبوط نظر آتی تو کبھی پاکستان کی۔ اس میچ کی آخری گیند پر پاکستان کو جیت کے لیے چار رنز درکار تھے اور بھارت کی جانب سے چیتن شرما بولنگ کر رہے تھے، چنانچہ جب چیتن شرما نے آخری گیند کرائی تو جاوید میانداد نے اس پر شاندار چھکا لگا کر پاکستان کو میچ جتوا دیا۔

یہ اس قدر سنسنی خیز مقابلہ تھا کہ آخری گیند تک میچ دیکھنے والوں کی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اگلے ہی لمحے کیا ہونے والا ہے۔ بہرحال، پاکستان کی یہ شاندار جیت بھارت کی جانب سے محض ایک کھیل کی شکست کے طور پر نہیں لی گئی بلکہ یہ جیت بہت سے بھارتی شائقین کے لیے ایک نفسیاتی مسئلہ بن گئی۔

یہ صرف ایک میچ کی شکست نہیں تھی۔ خود چیتن شرما نے برسوں بعد اعتراف کیا کہ وہ چھکا انھیں طویل عرصے تک ستاتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان کی دوسری بڑی کامیابیوں کے بجائے اسی چھکے کو یاد رکھتے تھے۔

بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بھارتی فلم انڈسٹری کی جانب سے 1987 میں ایک فلم ’’ حکومت‘‘ بنائی گئی، جس میں جاوید میانداد کے نام کو استعمال کیا گیا۔ اس فلم میں شارجہ کے میچ میں بھارت کی شکست کا بدلہ میانداد سے ایک عجیب انداز میں لینے کی کوشش کی گئی۔ فلم میں ایک برے پولیس افسر کو دکھایا گیا اور اس کا نام جاوید میانداد رکھا گیا۔اب یہاں بھارتی معاشرے کی نفسیاتی کیفیت کا ایک قابل حیرت پہلو دیکھیے۔ جب سینما میں جاوید میانداد کے نام کے کردار، یعنی ایک برے پولیس افسر کو دکھایا جاتا اور ایک ایماندار پولیس افسر طنزیہ انداز میں اس کا نام لیتا تو سینما میں بیٹھے ہوئے تماشائی خوشی سے تالیاں بجاتے۔ یوں محسوس ہوتا جیسے وہ اس فلمی کردار کے ذریعے میانداد سے کوئی بدلہ لے رہے ہوں۔

 اس کے علاوہ بھی ایک بھارتی فلم میں اسی نوعیت کی کہانی پیش کی گئی، جس میں ہیرو کرکٹ میچ کے دوران آخری گیند پر چھکا مار کر اپنی ٹیم کو فتح دلاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام فلمی منظر تھا، مگر شارجہ کے واقعے کے تناظر میں اس میں چھپی نفسیاتی مماثلت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

2003میں بھارت کے معروف جریدے انڈیا ٹو ڈے نے جاوید میانداد کی خودنوشت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارتی کرکٹ شائقین کے لیے میانداد ایک ایسے گہرے صدمے سے وابستہ ہیں جو شارجہ کے اس چھکے کو دیکھنے والی نسل کے ختم ہونے تک ختم نہیں ہوگا۔ اس مضمون میں 1986 کے واقعے کو محض ایک کرکٹ میچ نہیںبلکہ بھارتی شائقین کے لیے ایک psychological traumaکے طور پر بیان کیا گیا۔

2004میں شائع ہونے والے ٹائمز آف انڈیا کے ایک مضمون میں شارجہ کے میچ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ میانداد نے چیتن شرما کی آخری گیند کو چھکا لگا کر اسے’’decades of infamy ‘‘ یعنی کئی دہائیوں کی بدنامی میں بدل دیا۔ یہ مضمون خاص طور پر دلچسپ ہے کیونکہ اس میں 2004کے ایک پاکستان بھارت میچ کا موازنہ 1986کے شارجہ میچ سے کیا گیا تھا۔ یعنی تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارتی اخبارات اس ایک گیند کو نئی کہانیوں میں دوبارہ لے آ رہے تھے۔ دی انڈین ایکسپریس نے شارجہ کی کرکٹ تاریخ پر ایک تفصیلی مضمون میں ایک پورا حصہ The Six That Matteredکے عنوان سے شائع کیا اور میانداد کے اس چھکے کو شارجہ کرکٹ کا ایسا لمحہ قرار دیا جس نے اس میدان کی تاریخ متعین کی۔ مضمون میں لکھا گیا کہ یہ منظر بھارتی شائقین کے لیے آج بھی etched in infamyہے۔

یعنی بھارتی صحافت میں تقریباً 28 سال بعد بھی میانداد کا چھکا The Sixکے طور پر زندہ تھا۔ ایک مضمون کا عنوان ہی Javed Miandad's Last-Ball Six, Sharjah – 1986 رکھا گیا۔ مضمون میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے شائقین اس میچ کو بالکل مختلف انداز میں یاد کرتے ہیں۔

انڈیا ٹو ڈے، کے مطابق، یہ واقعہ اتنا اہم تھا کہ 30 سال بعد بھی بھارتی میڈیا نے اسے بھارت، پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے دس اہم ترین لمحات میں شمار کیا۔

2020 میں بھارتی کرکٹ کے معروف اخبار دی انڈین ایکسپریس نے نیوزی لینڈ کے خلاف روہت شرما کی سپر اوور میں کارکردگی کو براہِ راست Miandad x 2 قرار دیا۔ مضمون میں لکھا گیا کہ بھارتی کرکٹ شائقین کی ایک مخصوص نسل کے لیے آخری گیند کے کسی بھی ڈرامائی واقعے کا ذکر ہوتے ہی ذہن فوراً میانداد کی طرف چلا جاتا ہے۔

روہت شرما کے واقعے کے بعد بھارتی میڈیا (دی انڈین ایکسپریس وغیرہ) میں‘‘Miandad moment’’ ایک باقاعدہ تشبیہ بن گئی اور 1986 کے واقعے کو اس تشبیہ کا معیار بنایا۔

دی انڈین ایکسپریس کے مطابق اب بات صرف یہ نہیں تھی کہ ’’میانداد نے 1986میں چھکا مارا تھا‘‘ بلکہ جب کوئی بھارتی کھلاڑی آخری لمحے میں ایسا کارنامہ انجام دے تو اسے Miandad moment کہا جانے لگا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پاپولر کلچر میں کوئی واقعہ محض ایک واقعہ نہیں رہتا بلکہ ایک استعارے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

فروری 2025میں ٹائمز آف انڈیا نے بھارت،پاکستان مقابلوں کے حوالے سے ایک مضمون شائع کرتے ہوئے لکھا کہ 1986ء میں جاوید میانداد کے آخری گیند کے چھکے نے پاکستان کو بھارت پر psychological dominance دے دی تھی۔

 سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ میانداد کا نام بعد کے بھارتی کرکٹ میڈیا میں ’’ میانداد مومنٹ‘‘ کے طور پر ایک استعارہ بن گیا۔بھارتی ٹی وی شو ’’ کامیڈی نائٹ ود کپل‘‘ میں بھارتی کرکٹر سنیل گواسکر نے ایک واقعہ سنایا، جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ میانداد کا یہ چھکا بھارتی عوام ہی نہیں بلکہ بعض بھارتی کرکٹرز کے ذہنوں پر بھی کس قدر گہرا اثر چھوڑ چکا تھا۔

گواسکر کے مطابق، ایک میچ کے دوران میانداد بار بار بھارتی اسپنر سے پوچھ رہے تھے۔

’’تیرا روم نمبر کیا ہے؟‘‘‘

جب بولر تنگ آ گیا اور اس نے پوچھا کہ ’’ اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘ تو میانداد نے جواب دیا۔

’’اپنا روم نمبر بتا نا، میں ادھر چھکا ماروں گا۔‘‘

بہر کیف دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی اس نفسیات سے کب تک نکلیں گے۔