آپ ان کے سیاسی اور صحافتی نظریات سے ہزار اختلاف کریں، اور خود میں بھی ان کے انھی نیازمندوں میں شامل ہوں، مگر اس میںکوئی دو رائے نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد جس صحافی نے اپنی تحریروں سے اردو صحافت اور رائے عامہ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا، وہ’ پیرومرشد‘ الطاف حسن قریشی صاحب ہی ہیں۔ ان کے ماہنامہ ’اردو ڈائجسٹ‘ اور ہفت روزہ ’زندگی‘ نے ایک زمانے میں صحافت ہی نہیں، سیاست میں بھی دھوم مچائے رکھی۔
اس عرصہ میں، ان کے آستانۂ صحافت پر مجیب الرحمن شامی اور ضیاء شاہد سے لے کر سجاد میر اور روف طاہر تک، اردو صحافت کے بہت بڑے بڑے ناموں نے زانوے تلمذ طے کیا، اور خوب فیض پایا۔ الطاف صاحب اس سال سولہ مئی کو چورانوے برس کی عمر میں، ایک بھرپور، قابل رشک زندگی گزار کر راہی ملک عدم ہو چکے ، مگر لاریب ان کا قلمی سرمایہ اردو صحافت میں لازوال اہمیت کا حامل رہے گا۔ انھی کا شعر ہے، ’’ہمیں تو عشق نے الطافؔ لازوال کیا، حدود مرگ سے آگے نگر بسائے ہیں‘‘۔
الطاف صاحب اور ہفت روزہ’ زندگی‘ کا تذکرہ پہلے پہل اسکول کے زمانے میں اپنے محبوب ٹیچر سہیل انورسیدکی زبانی سنا۔ شاہ جی، مودودی صاحب کے متاثرین میں سے تھے، اور جماعت اسلامی کی ’ تنظیم اساتذہ‘ کے سرگرم رکن بھی، اور اس نسبت سے ’ترجمان القرآن‘ اور’زندگی‘ کے مستقل خریدار تھے۔ جب یہ رسالے ان کے پاس آتے، تو ایک دو روز بعد ان کی الماری سے نکل کر میری دسترس میں بھی آ جاتے تھے۔ یوں، مودودی صاحب اور الطاف صاحب سے میری قریب قریب ایک ساتھ ہی شناسائی ہوئی۔
ان کو، مگر، اول بار میں نے اپنے ہفت روزہ ’ندا‘ کے زمانے میں دیکھا۔ اس کا دفتر سمن آباد مین مارکیٹ کے بالمقابل ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی دو منزلہ کوٹھی میں ہوتا تھا، جو ان دنوں ان کے بھائی اور ’ندا‘ کے ایڈیٹر اقتدار احمد کے زیر تصرف تھی۔ یہیں، اس کوٹھی کے سامنے چند کوٹھیاں چھوڑ کر آگے ’اردو ڈائجسٹ‘ کی بلڈنگ تھی، جس کی مجلس ادارت ہمارے دوست اختر حیات اور بزرگ شاعر یزدانی جالندھری پر مشتمل تھی۔
کبھی کبھی جب میں اخترحیات کے پاس ان کے کمرے میں بیٹھا ہوتا، تو الطاف صاحب بھی اپنی اس مجلس ادارت سے صلاح مشورہ کرنے ادھر آ نکلتے تھے۔ عام طور پر یہ وہ دن ہوتے، جب وہ اداریہ لکھ رہے ہوتے تھے۔ وہ اس طرح کمرے میں داخل ہوتے کہ اپنے اداریہ کا کوئی کتابت شدہ صفحہ ان کے ہاتھ میں ہوتا، وہ اس صفحہ کو اپنی آنکھوں کے بالکل پاس لے جا کر، اس میں کتابت کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے، اور واپس اپنے کمرے میں تشریف لے جاتے تھے۔
ان کی شخصیت سر تا پا اتنی منفرد تھی کہ کوئی زندگی میں ایک بار ان کو دیکھ لے، تو کبھی بھول نہیں سکتا تھا۔ گول مٹول، بھرا بھرا، سرخ و سپید صفا چٹ چہرہ۔ ماتھا بتدریج سر کے درمیانی حصہ کی طرف بڑھتا ہوا، بے حد کشادہ۔ سرخ لمبے بال، جو دونوں کانوں کے اوپر سے ہوتے ہوئے، پیچھے ان کی گردن پر نفیس تراشیدہ لٹوں کی صورت میں گر رہے ہوتے۔ چھوٹی چھوٹی بھوری آنکھیں، جو دوسروں کی آنکھوں سے ہمیشہ اوجھل رہتیں، کہ باہر دن کی روشنی میں وہ ان پر گہرے رنگ کے نظر کے موٹے شیشے چڑھائے رکھتے، جب کہ اندرکمرے میں اگر ان شیشوں کے پیچھے سے وہ کچھ دکھائی دے جاتیں، تو بھی بند ہی معلوم ہوتی تھیں۔
سرخ گالوں کے درمیان چھوٹی سی چپٹی ناک، جس کا بیشتر حصہ ان کی بھاری براون فریم والی عینک کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔ اس ناک کے مگر نیچے ان کے پنکھڑی کے جیسے ہونٹ اور تنگ دہن نے گویا اردو کی منتخب رومانوی شاعری کو اپنے اندر سمویا ہوا تھا۔ قد چھوٹا نہ بڑا، بس درمیانہ سا، جو ان کے ڈھیلے ڈھالے جثے سے پوری طرح ہم آہنگ ہو چکا تھا۔ اکثر ان کوگہرے رنگوں کے قمیص شلوار اور واسکٹ میں دیکھا۔ تاہم، کبھی کبھی شیروانی میں بھی نظر آ جاتے تھے۔ ان کے اجلے سفید چہرے پرگہرے رنگ سجتے بھی بہت تھے۔
کچھ عرصہ بعد الطاف صاحب سے بالواسطہ وابستگی اس طرح قائم ہوئی کہ ان کے جانشین مجیب الرحمن شامی صاحب نے جب اپنی براہ راست ادارت میں، ہفت روزہ ’زندگی‘ کا ازسرنو اجراء کیا، تو ان کی نظر انتخاب اس عاجز پر بھی پڑی اور انھوں نے اسے بھی اپنی مجلس ادارت میں شمولیت کے اعزاز سے سرفراز کر دیا۔ یہیں الطاف صاحب سے ابتدائی تعارف اور نیاز مندی کا شرف حاصل ہوا۔ وہ ان دنوں ’اردو ڈائجسٹ‘ کے مدیر مسؤل کے ساتھ ساتھ، ایک تھنک ٹینک، پائنا ( پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیئرز ) کے سربراہ بھی تھے، جس کا دفتر گارڈن ٹاون میں ہوتا تھا، اور اس زمانے میں کافی فعال تھا۔
پائنا کے تحت ہونے والے سیمیناروں میں الطاف صاحب کی تقریریں سنیں، تو منکشف ہوا کہ ان کی تحریر کی طرح ان کی تقریر بھی سحر طاری کر دینے والی ہے، جیسے موتی پرو رہے ہیں، ایک ایک جملہ نکھرا اور نتھرا ہوا۔ ایسی پرسوز، دل گداز، اور رواں کہ جیسے کوئی جھرنا پھوٹ رہا ہو،کوئی آبشارگر رہی ہو،کوئی ندی بہہ رہی ہو:’ ندی کا موڑ، چشمہء شیریں کا زیروبم، چادرِشب نجوم کی، شبنم کا رختِ نم، موتی کی آب، تتلی کا رقصِِ ناز، غزالہ کا حسن ِرم، ان سب کے امتزاج سے پیدا ہوئی ہے تُو، کتنے حسین افق سے ہویدا ہوئی ہے تُو‘۔ ان کی تقریر سننے کے بعد میں تو ان کی تحریر سے زیادہ ان کی تقریر پرفدا ہو چکا تھا۔
الطاف صاحب کی اردوصحافت ایک ایسے عہدمیں پلی بڑھی اور جوان ہوئی ، جب پاکستان میں ہر سطح پر نظریاتی کشمکش برپا تھی۔ نام نہاد دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحات کے پردے میں بہت کچھ کہا اورلکھا جا رہا تھا۔ آج یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس نظریاتی مارا ماری کے پیچھے اس دورکی مخصوص سیاست کارفرما تھی۔ الطاف صاحب ان دنوں آتش جواں تھے، اور اس پر یہ کہ مودودی صاحب کے پرجوش پیروکار بھی۔ ’ اردوڈائجسٹ‘ اور ہفت روزہ ’زندگی‘کی زیادہ پذیرائی بھی جماعت کے حلقہ ء اثر میں تھی۔ لہٰذا، وہ بھی اگر اس ماحول کا حصہ بن گئے، تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔
ان کی اس دور کی تحریروں میں ان کی ’جماعتی پسند و ناپسند‘ بہت حاوی نظر آتی ہے۔ اسی یکطرفہ سوچ پرتو1970ء کے الیکشن سے قبل مشرقی پاکستان کے حوالہ سے ان کے مشہور تجزیہ،’محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے‘میں بھی نظر آتا ہے ، جو زمینی حقائق سے قطعاً کوئی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ تاہم، جو خوبی ان کے تجزیوں کو اس طرح کے باقی تجزیوں سے مختلف کرتی تھی، وہ ان کا دل کش بلکہ دل میں گھر کر جانے والا اسلوب تھا۔ اردو ڈائجسٹ میں ان کا تجزیہ ’ہم کہاں کھڑے ہیں‘‘ اس کی روح سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، صحافت میں ان کی ابتدائی شہرت، ان کے یہ تجزیے نہیں، بلکہ وہ سیاسی وغیر سیاسی انٹرویوز تھے، جو زندگی کی ہمہ ہمی سے بھرپور ہوتے تھے۔ دل چسپ بات یہ ہے، ان کی روداد وہ زیادہ تر اپنی یادداشت کی بنیاد پر مرتب کرتے تھے، اور یہ بات انھوں نے خود بھی مجھے بتائی۔ ان کی یہ حیرت انگیز صلاحیت اس امر کا ثبوت ہے کہ قدرت نے انھیں غیرمعمولی قوت حافظہ سے نوازا ہوا تھا۔
یہ میری خوش نصیبی تھی کہ جوہر ٹاؤن میں ان کا گھر اور ’اردو ڈائجسٹ‘ کا نیا دفتر، واپڈا ٹاؤن میں میرے گھر سے زیادہ دور نہیں۔ چنانچہ، وقتاً فوقتاً ان سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ گاہے، ٹیلی فون پر بھی یاد کر لیتے تھے۔ میری درخواست پر انھوں نے ایکسپریس نیوز کی دستاویزی فلم ’منزل منزل ‘کے لیے اپنی ہجرت کی سرگزشت بھی ریکارڈ کرا دی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ2022میں جب مجھے مجلس ترقی ادب کا سربراہ مقرر کیا گیا، تو چند دنوں بعد ان کا انتہائی شفقت بھرا فون آیا اورکہا کہ ’حق بحقدار رسید‘‘۔ وہ بڑے خوش تھے۔
اس طرح دل کھول کر حوصلہ افزائی ان جیسا بڑے دل والا آدمی ہی کر سکتا تھا۔ اسی طرح ایک بار’اردوڈائجسٹ‘ بلڈنگ میں ایک انٹرویوکے لیے مجھے بھی’طلب‘ کرکے اپنے ساتھ پینل میں شامل کرلیا۔ میرے اصرار پر وہ اپنی’آپ بیتی‘ ریکارڈکرانے پر بھی تیار ہو گئے تھے ، اور میں اس روز بے حد مسرور تھے، مگر پھر مجھ ہی سے اسے ریکارڈ کرنے میں کوتاہی ہوئی، جس پر ایک بار فون پر مجھ سے محبت بھرے انداز میں شکوہ بھی کیا کہ، ’مجھے آپ بیتی ریکارڈ کرنے پر راضی کرکے آپ خود غائب ہو گئے‘۔ اپنی اس کوتاہی پر مجھے بڑی ندامت ہوئی اور ہمیشہ افسوس بھی رہے گا، کیونکہ اس میں محض روزگار سے جڑی روزمرہ کی جبری مصروفیت حائل ہو رہی تھی، جو manage کی جا سکتی تھی۔ قصہ کوتاہ یہ کہ قلم سے ان کا رشتہ ایسا تھا، جیسے روح کا بدن کے ساتھ ہوتا ہے،جو انھوں نے تا دم مرگ نبھایا بھی۔ بطور قلمکار، وہ حافظؔ کے اس شعرکی تعبیر بھی تھے اور تفسیر ؎
حافظؔ سخن بگوی کہ بر صفحہء جہان
این نقش ماند از قلمت یادگار عمر