اسلام آباد:
پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کا واقعے پر اسپتال کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 4 افسران نے تحریری بیانات جمع کروا دیے۔
انکوائری کمیٹی کی جانب سے افسران سے واقعے کی وجوہات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم کی ہدایت پر کمیٹی کی تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے کمیٹی نے پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے بھی پوچھ گچھ کی۔ انکوائری کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات بھی طلب کر لیے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی کا ریکارڈ بھی قبضہ میں لے کر سی سی ٹی وی فوٹیج کا بغور جائزہ لیا، آگ کی وجوہات سے متعلق انتظامیہ کے بیان اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں موازنہ بھی کیا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کو 26 اگست کا ڈیوٹی روسٹر بھی جمع کروا دیا گیا، کمیٹی کے نمائندے نے نرسری اسٹاف سے سوالات بھی کیے، کمیٹی کو فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھی رپورٹ پیش کر دی گئی۔
کمیٹی اڑتالیس گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔
چیئرمین انکوائری کمیٹی نے پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 4 افسران سے وضاحت طلب کی تھی۔ افسران کو مکمل تفصیلات بتانے کی ہدایت کی گئی تھی جس میں بتانا تھا کہ آگ لگنے کی اصل وجہ کیا تھی؟ 4 اعلیٰ افسران کو تحریری بیان جمع کروانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
دوسری جانب، نئے وفاقی سیکریٹری ہیلتھ کیپٹن محمود رائے نے رات گئے پمز اسپتال کے باہر ٹینٹ نصب کروا دیا۔
پمز اسپتال کے باہر ٹینٹ میں لائٹنگ اور پنکھوں کا انتظام کر دیا گیا، ٹینٹ میں کرسیاں لگا کر شہریوں کے بیٹھنے اور شکایات سننے کا بھی انتظام کیا گیا۔
وفاقی سیکریٹری ہیلتھ محمود رائے روزانہ کیمپ میں بیٹھ کر پمز کا جائزہ لینے سمیت اسپتال میں انتظامی امور اور سہولیات کا روزانہ جائزہ لیں گے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کی شکایات بھی سنیں گے۔
واضح رہے کہ 27 اگست (12 ربیع الاؤل) کی صبح 6 بجے کے قریب پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے باعث 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے۔