پاک فوج کویتی مسلح افواج کی تربیت و سرحدی دفاع میں معاونت فراہم کرے گی، معاہدے پر دستخط

کویت کے اعلیٰ سطح وفد کے وزیرِ دفاع کی سربراہی میں جی ایچ کیو اور وزارت دفاع کے دورے


اسٹاف رپورٹر August 27, 2026

اسلام آباد:

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا معاہدہ طے پا گیا، پاکستان اور کویت نے دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے پروٹوکول ایگریمنٹ 2026ء پر دستخط کر دیے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السلیم الصباح کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے وفد نے وزارت دفاع راولپنڈی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ملاقات کی۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ دفاعی تعلقات اور سکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا بعدازاں نئے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

 

نئے معاہدے سے 2023ء کے دفاعی تعاون معاہدے کے تحت قائم فوجی تعاون کے موجودہ فریم ورک کو مزید وسعت ملے گی۔ معاہدے کے تحت پاک فوج کویتی مسلح افواج کو تربیت، استعداد کار میں اضافے، سرحدی انتظام اور دفاعی تعاون کے دیگر باہمی طور پر طے شدہ شعبوں میں معاونت فراہم کرے گی۔

پاکستان اور کویت نے نئے معاہدے کو دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ تزویراتی مفادات کا عکاس قرار دیا جب کہ  دفاعی شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں ممالک نے باہمی سلامتی، علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کے لیے دفاعی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔

جی ایچ کیو کا دورہ، فیلڈ مارشل سے ملاقات

قبل ازیں کویت کے وزیرِ دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السلیم الصباح کی سربراہی میں وفد نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کویتی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد درج سعد الشریان بھی وفد کے ہمراہ تھے، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

دونوں فریقین نے ادارہ جاتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا، کویتی وفد نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ اور آپریشنل مہارت اور خدمات کو سراہا۔

یہ ملاقات تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط، پائیدار اور باہمی دفاعی شراکت داری کو مستحکم کرنے میں معاون ہوگی اور اس سے علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا۔