امریکا؛ جوتے چوری، خراب کی گئیں گاڑیاں، چہرے چاٹنے والے مارموٹ ہائیکرز کیلئے زحمت

نیشنل پارک سروس کی جانب سے بھی سطح سمندر سے7 ہزار 800 فٹ بلند علاقے میں جانے والے سیاحوں کو خبردار کیا جاتا ہے


ویب ڈیسک August 28, 2026
فوٹو:انڈیپنڈنٹ

امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے نیشنل پارک میں خوب صورت مگر شاطر اور پیٹ کے نیچے زرد رنگ والے مارموٹ ہائیکرز اور کیمپنگ کرنے والوں کے لیے زحمت کا باعث بن رہے ہیں جو جوتے اور بیگ چوری کرنے کے ساتھ ساتھ سامان کو کتر کر خراب کرتے ہیں اور یہاں تک کہ گاڑیوں کو بھی ناکارہ بنا دیتے ہیں۔

غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ زمینی گلہری نما جانور جو جسامت میں چھوٹے ہیں لیکن منرل کنگ ویلی میں خاصے بدنام ہوچکے ہیں، نیشنل پارک سروس کی جانب سے بھی سطح سمندر سے7 ہزار 800 فٹ بلند علاقے میں جانے والے سیاحوں کو خبردار کرتی ہے کہ آپ مارموٹ کے علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیکوئیا اور کنگز کینین نیشنل پارکس خاص طور پر زیادہ بلندی والے علاقوں میں مارموٹ عام ہیں تاہم ان کی شرارت بھری سرگرمیاں مئی سے جولائی کے وسط تک عروج پر پہنچ جاتی ہیں اور اس دوران یہ خوراک اور نمک کی تلاش میں ٹریل ہیڈز اور پارکنگ ایریاز میں بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں، ہائیکرز کے لیے مارموٹ سے اچانک سامنا خاصا چونکا دینے والا واقعہ ہوسکتا ہے۔

کیلیفورنیا کے علاقے لیورمور سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ انجینئر اینڈریو رائن ہارٹ گزشتہ ماہ پہاڑ پر ہائیکنگ کے بعد کچھ دیر سوئے جب آنکھ کھلی تو انہوں نے دیکھا کہ ایک مارموٹ اپنی گیلی زبان ان کے کان میں ڈال رہا تھا، جنہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ میں ڈر گیا تھا کیونکہ جب آپ جنگل میں سوتے ہیں تو یہ توقع ہرگز نہیں کرتے کہ کوئی آپ کو چاٹنے لگے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کئی ہائیکرز اپنا سامان بھی گنوا چکے ہیں، اسی طرح کی کہانی 66 سالہ جیف وائیٹ کی ہے، 31 سالہ نیتن گپتا نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک بڑے مارموٹ نے ان کی ہائیکنگ اسٹک چرا لی اور جب ان کی گرل فرینڈ نے اسے واپس لینے کی کوشش کی تو مارموٹ اس پر حملے کے لیے جھپٹا تھا۔

نیتن گپتا نے کہا کہ میں نے تقریباً جنگ کے دوران ہونے والی للکار جیسی آواز سنی اور بالآخر ہمیں ہائیکنگ اسٹک واپس لینے کی کوشش ترک کرنا پڑی۔

ہائیکرز کے لیے زیادہ تشویش کی بات اس وقت سامنے ہوتی ہے جب وہ اپنی گاڑیوں کے پاس واپس جاتے ہیں کیونکہ مارموٹ گاڑیوں کے نیچے سے گزر کر ان کے انجن کے حصوں تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں وہ ریڈی ایٹر اور بجلی کی تاریں کترنے کے ساتھ ساتھ گاڑی کے مختلف سیال مادے بھی پی لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ہونے والا نقصان اس قدر سنگین بن جاتا ہے کہ انہیں اپنی گاڑیاں اس دور دراز علاقے میں خراب اور بے کار حالت میں چھوڑنا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک ہائیکر کو مارموٹ کی جانب سے گاڑی کو پہنچائے گئے نقصان کے بعد گاڑی کو ٹھیک کرکے واپس لے جانے کے لیے ایک ہزار ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنا پڑی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیشنل پارک میں موجود ان جانوروں کی نمک کی جانب کشش ان کے بعض رویوں کی وضاحت کرسکتی ہے، مارموٹ کے ماہر ڈین بلمسٹین کے مطابق یہ جانور پسینے سے نم آلود بیگ کے پٹوں اور ہائیکنگ اسٹکس پر موجود نمک تلاش کرتے ہیں اور گاڑیوں کے آس پاس موجود سیال مادے اور مختلف چیزیں بھی انہیں پیاس بجھانے کے لیے کافی لگتی ہیں۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ کئی برسوں تک سیاح اپنی گاڑیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جالیاں استعمال کرتے رہے لیکن مارموٹ نے اس سے بچنے کا طریقہ بھی سیکھ لیا اور اب نیشنل پارک سروس نے غیرمعمولی حفاظتی تدبیر تجویز کیے ہیں کہ گاڑیوں کو پلاسٹک کے ترپال سے ڈھانپ دیں،

سیاح ترپال کو زمین پر بچھا کر اس پر گاڑی چلا سکتے ہیں اور پھر اسے گاڑی کے گرد پہیوں سمیت لپیٹ سکتے ہیں تاکہ مارموٹ گاڑی کے نیچے نہ گھس سکیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارموٹ کا خطرہ اب کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، دوسری طرف ہائیکنگ کا موسم ختم ہوچکا ہے، اس لیے حکام نے تجویز دی ہے کہ اب گاڑیوں کو ترپال سے ڈھانپنے کی ضرورت نہیں رہی۔