اسلام آباد میں بیرسٹر دانیال چوہدری کی زیر صدارت ایڈوائزری کونسل برائے چائلڈ رائٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ارکان کمیٹی نے بچوں کے حقوق سے متعلق آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔ ارکان نے بچیوں سے زیادتی کے مجرموں کے لیے سزائے موت کا قانون بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
رکن کمیٹی ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ کوئی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال رجسٹرڈ ہوتا ہے تو 30 دن میں انسپکشن کمیٹی انسپکشن کرتی ہے۔ یہ کمیٹی دیکھتی ہے کہ ہسپتال میں آگ بجھانے کے آلات اور دیگر ضروری آلات موجود ہیں، اگر آلات نہ ہوں تو لائسنس جاری نہیں ہوتا۔ ایک سال پہلے کسی بھی ہسپتال کے پاس یہ رجسٹریشن لائسنس نہیں تھا۔
ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ تمام ہسپتالوں کے لیے قیمتوں کے تعین کی خاطر کمیٹی نے ریٹس مقرر کرنے ہوتے ہیں، تاہم آج تک اس کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوسکا اور نہ ہی کمیٹی نے کسی ہسپتال کے ریٹس مقرر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین بی امام کا ایک بڑا نجی ہسپتال ہے اور اس کا اپنا ایک نجی ہسپتال ہے۔ شفاء انٹرنیشنل معروف ہسپتال کے پاس لائسنس نہیں ہے۔
چیئرمین کمیٹی دانیال چوہدری نے کہا کہ شفاء انٹرنیشنل واحد ہسپتال ہے جو اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ ہے۔ رکن کمیٹی مس مینیل خان نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے ان کے پاس ایسے واقعات ہیں کہ آپ خوفزدہ ہوجائیں گے۔
دانیال چوہدری نے ڈاکٹر امجد سے استفسار کیا کہ قیمتوں کے تعین کے بارے میں بہت اہم بات بتائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہفتے پہلے وزیراعظم کو خط لکھا تھا کہ یہ ایک کمیٹی بنی تھی، اس کمیٹی نے سفارشات دیں مگر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کو بائی ہینڈ لیٹر دیا مگر آج تک اس پر کچھ نہیں ہوا۔
دانیال چوہدری نے کہا کہ نجی ہسپتالوں کو چیک کرنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی ایکٹو کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں نجی ہسپتالوں کے بارے میں کوئی چیک نہیں ہے۔
رکن کمیٹی نے کہا کہ نجی ہسپتالوں کی جانب سے پیسے بنانے کے لیے ڈیڈ باڈیز کو وینٹی لیٹر پر رکھنے کے بھی واقعات ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ اسلام آباد کے تمام ہسپتالوں کے لیے ایک اتھارٹی بنی ہے، اس اتھارٹی کے پاس ہسپتالوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور ہسپتالوں کو سیل کرنے کے بھی اختیارات ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی برائے حقوق اطفال کا اجلاس ختم ہوگیا۔ ارکان کمیٹی چیئرمین کے ہمراہ پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرنے کے لیے چلے گئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں حقوق اطفال کے بارے میں قرارداد پیش کرنے کی اجازت مانگی جائے گی، قرارداد تمام ارکان کمیٹی کے دستخطوں سے پیش ہوگی۔
چیئرمین پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال بیرسٹر دانیال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حقوق اطفال کاکس کے اجلاس میں پمز واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ پمز واقعہ پر قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں ہری پور کی کمسن آیت نور اور راولپنڈی کی حنا جاوید کی اموات کا تذکرہ بھی ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دونوں واقعات کو اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں رکھیں گے۔
نوشین افتخار نے کہا کہ بچوں پر جنسی تشدد پر سنجیدہ ہوکر اس کی روک تھام کرنی ہوگی۔ سی سی ڈی والے اٹھا اٹھا کر بھی مار رہے ہیں لیکن اس سے بھی فرق نہیں پڑتا۔ بچوں کے حقوق پر چاروں صوبوں کو خطوط ارسال کیے جائیں۔
دانیال چوہدری نے کہا کہ ہم سزا دیتے تو ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کرتے۔ اسلام آباد سے چائنیز پکڑے گئے ہیں، وہ ڈارک ویب پر ویڈیو بنا رہے تھے۔ رکن کمیٹی نے کہا کہ لوگوں کو سوشل میڈیا پر کہا جاتا ہے دو کروڑ ملیں گے، تو لوگ اس طرف راغب ہوجاتے ہیں۔