مصنوعی مٹھاس کا دل کے امراض میں اضافے سے تعلق کا انکشاف

محققین نے دو مطالعات میں شامل 17 ہزار 710 افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا


ویب ڈیسک August 29, 2026

ایک نئی تحقیق میں مصنوعی مٹھاس کے طور پر استعمال ہونے والے زائلیٹول کی خون میں زیادہ مقدار اور دل کے بڑے امراض کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔

زائلیٹول ایک شوگر الکوحل ہے جو قدرتی طور پر انسانی جسم میں گلوکوز کے میٹابولزم کے نتیجے میں معمولی مقدار میں بنتا ہے اور بعض قدرتی غذاؤں میں بھی بہت کم مقدار میں پایا جاتا ہے۔

تاہم، کھانے پینے کی اشیا، مشروبات اور منہ کی صفائی کی مصنوعات کو میٹھا کرنے کے لیے اسے بعض اوقات قدرتی مقدار کے مقابلے میں ایک ہزار گنا سے بھی زیادہ مقدار میں شامل کیا جاتا ہے۔

محققین نے کینیڈین لونگی ٹیوڈینل اسٹڈی آن ایجنگ (سی ایل ایس اے) اور یورپین پروسپیکٹو انویسٹی گیشن ان کینسر (EPIC-Norfolk) کے دو مطالعات میں شامل17 ہزار 710 افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔

تحقیق کے مطابق جن افراد کے خون میں زائلیٹول کی سطح سب سے زیادہ تھی، ان میں بڑے قلبی واقعات کا خطرہ کم ترین سطح والے افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔ ان قلبی واقعات میں دل کا دورہ، فالج اور موت شامل تھے۔

سی ایل ایس اے گروپ میں تقریباً چھ سالہ فالو اَپ کے دوران، عمر، جنس، سگریٹ نوشی، خون میں چکنائی کی سطح، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسے معروف خطرات کو مدِنظر رکھنے کے بعد بھی، خون میں زائلیٹول کی بلند ترین سطح رکھنے والے افراد میں بڑے قلبی واقعات کا خطرہ کم ترین سطح والے افراد کے مقابلے میں 57 فی صد زیادہ تھا۔

محققین کا کہنا تھا کہ زائلیٹول کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر اس کے طویل مدتی قلبی اثرات کو مزید سمجھنے کے لیے اضافی تحقیق کی ضرورت ہے۔ البتہ، موجودہ نتائج زائلیٹول کی زیادہ مقدار کے استعمال اور قلبی صحت کے درمیان ممکنہ تعلق کی جانب اہم اشارہ فراہم کرتے ہیں۔

یہ تحقیق یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کانگریس 2026 میں پیش کی جائے گی۔