کراچی کے علاقے ناظم آباد میں واقع نجی اسپتال میں خاتون کے مبینہ حمل کے تنازع شدت اختیار کرگیا ہے جہاں خاتون کے آپریشن کے بعد حمل نہ ہونے کے انکشاف پر اہل خانہ نے نومولود غائب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کیا جبکہ ایس ایس پی سینٹرل نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تھانہ ناظم آباد کی حدود میں واقع ہمدرد اسپتال ناظم آباد نمبر 3 میں خاتون کے مبینہ حمل سے متعلق تنازعہ پیش آیا، جس کے بعد خاتون کے اہل خانہ کی جانب سے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 27 اگست 2026 کو 24 سالہ خاتون کو زچگی کے سلسلے میں اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اہل خانہ کے مطابق خاتون گزشتہ تقریباً 9 ماہ سے اسپتال کی ایک ڈاکٹر سے طبی معائنہ اور الٹراساؤنڈ وغیرہ کروا رہی تھی، جس کے تمام ریکارڈ اور رپورٹس ان کے پاس موجود ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے دوران خاتون کا پیٹ کھولنے پر معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں تھی، جس پر خاتون کے شوہر اور دیگر رشتہ دار مشتعل ہوگئے اور اسپتال میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے املاک کو نقصان پہنچایا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیا اور مکمل تحقیقات کے لیے ایس ڈی پی او گلبرگ منیشا روپیتا کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس میں ایس ایچ او تھانہ ناظم آباد، ایس ایچ او تھانہ رضویہ سوسائٹی، ایس ایچ او تھانہ ویمن اور انچارج ٹیکنیکل، سی سی ٹی وی شامل ہیں، تحقیقاتی ٹیم تمام دستیاب شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیجز، طبی رپورٹس اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے کر واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائے گی۔
ترجمان نے کہا کہ واقعے کی اطلاع پر تھانہ ناظم آباد پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورت حال پر قابو پالیا اور امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھا جبکہ شواہد بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی مکمل حقیقت اور قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے خاتون کو ایم ایل او عباسی شہید اسپتال بھجوایا گیا ہے، جہاں طبی معائنے کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا خاتون حاملہ تھیں، حمل کامیاب تھا یا ضائع ہوچکا تھا اور آیا خاتون کو کسی قسم کا جسمانی نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ طبی معائنے اور موصول ہونے والی رپورٹس کی روشنی میں واقعے کے حقائق کا تعین کرتے ہوئے قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں ایس ایچ او ناظم آباد، ایس ایچ او رضویہ سوسائٹی، ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن اور انچارج ٹیکنیکل سی سی ٹی وی شامل ہیں، تحقیقاتی ٹیم تمام دستیاب شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیجز، طبی رپورٹس اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے کر واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائے گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے کر دو روز کے اندر اپنی جامع رپورٹ پیش کرے گی جبکہ طبی معائنے اور موصول رپورٹس کی روشنی میں واقعے کے حقائق کا تعین کرتے ہوئے قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ایس ایچ او ناظم آباد خالد رفیق کا کہنا تھا کہ ناظم آباد میں نجی اسپتال میں زچگی کے آپریشن کے دوران نومولود بچے کے غائب ہونے کے حوالے سے خاتون کا طبی معائنہ مکمل کرلیا گیا ہے، جس کی رپورٹ ایک سے دو روز میں سامنے آئے گی۔
انہوں ںے بتایا کہ نجی اسپتال کا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا ہے اور وہاں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں کہ خاتون کب سے اسپتال آرہی تھی اور کتنے ٹیسٹ کیے گئے تھے، اس کا بھی تعین کیا جا رہا ہے تاہم واقعے سے متعلق فوری طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، پولیس اس حوالے سے میڈیکل رپورٹس کے ساتھ ساتھ ہر زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے۔
نجی اسپتال کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپتال کا میڈیکل بورڈ واقعے کا ہر پہلو سے جائزہ لے رہا ہے اور اس حوالے سے رپورٹ بھی مرتب کی جائے گی۔