پاکستان کے پاس دریا بھی ہیں، سمندر بھی ہے، زمین بھی ہے، کروڑوں نوجوان بھی ہیں، سورج بھی ہے، کپاس بھی ہے، چاول بھی ہے، ذہین دماغ بھی ہیں اور محنت کرنے والے ہاتھ بھی ہیں مگر عجیب المیہ ہے ابھی ہم نے 14 اگست آزادی کا دن منا کر خود کو یقین دلایا کہ ہم آزاد ہیں۔
بے شک ہم آزاد ہیں لیکن ہم درآمدی معیشت کے قیدی کیوں بن گئے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ مالی سال 2025-26 میں برآمدات محض 30.14 ارب ڈالر اور درآمدات 69.74 ارب ڈالر یوں سمجھیں 30 ارب اور 70 ارب ڈالر کا فرق 40 ارب کا خسارہ اور تازہ ترین ماہ جولائی 2026 کی برآمدی مالیت 2 ارب 96 کروڑ20 لاکھ ڈالر اور درآمدی مالیت 6 ارب 94 کروڑ ڈالر صرف سمجھنے کے لیے 3 ارب ڈالر کمایا اور 7 ارب ڈالر خرچ کیا، یعنی درآمدات کے ہم قیدی بنتے چلے جا رہے ہیں۔
ہم نے معیشت کو ایک ایسے گھر کی طرح بنا دیا ہے جہاں آمدنی محدود ہے، خواہشات وسیع ہیں اور خریداری کا شوق ادھار لے کر پورا کیا جاتا ہے۔ میں ان تمام درآمدات کا حامی ہوں جس سے برآمدی طاقت پیدا ہو۔ جس سے برآمدات کو سہارا ملے لیکن اس درآمدات کا مخالف ہوں جس سے برآمدی طاقت پیدا نہ ہو، ملکی معاشی مشکلات بڑھتی چلی جائیں، ملکی معیشت کو درآمدات کی بے ساکھیوں پر ڈال دیا جائے۔
قیام پاکستان کے بعد ہماری معیشت کو بنیادی ضروریات کے لیے درآمدات کی ضرورت تھی، اس وقت کے دونوں بازو صنعتوں سے خالی تھے۔ انگریزوں نے اپنے دور کے آغاز میں کلکتہ کو زبردست ترقی دی۔ اسی طرح ان شہروں میں زیادہ تر صنعتیں لگائی گئیں جوکہ آج بھارت میں ہیں۔
پاکستان کے پاس نہ سرمایہ تھا، نہ مشینریاں تھیں، لہٰذا درآمدات مجبوری بن گئی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اشیائے خوراک اور اشیائے تعیشات ہماری ضرورت بنتی چلی گئیں۔ مشینریاں درآمد کرنا اچھی بات ہے کیونکہ یہ ہماری ضرورت ہے لیکن ایک غریب ملک اور زرعی ملک بھی ہو لیکن بڑی تعداد میں ہر سال مسلسل دالیں، کبھی گندم، کبھی کپاس، کبھی چینی اور پام آئل۔ مان لیتے ہیں کہ ملک میں چائے کی پیداوار نہیں ہوتی، اگرچہ منصوبہ بناتے ہیں لیکن کوشش نہیں ہوتی۔ مجھے یاد ہے غالباً آج سے 30 سال قبل سورج مکھی کی پیداوار میں بہت زیادہ اضافے کی بڑی باتیں کی گئیں تاکہ اس سے کھانے کا تیل بنایا جا سکے، لیکن ہمارا سارا انحصار زیادہ سے زیادہ پام آئل کی درآمد پر ہے۔
ہمارے ملک میں کبھی 7 کروڑ ٹن کبھی 8 کروڑ ٹن گنا پیدا ہوتا ہے لیکن مافیاز کے چکر میں آ کر چینی بھی درآمد کر لیتے ہیں۔ کبھی گندم یا چینی درآمد کرکے پھر برآمد بھی کرتے ہیں۔ اب چینی ایک لاکھ ٹن سے زائد برآمد کریں گے۔ یہ سب ناقص زرعی منصوبہ بندی کی وجہ سے ہے۔ کبھی ٹماٹر، آلو، پیاز وغیرہ اتنی زیادہ پیداوار کہ 15 یا 20 روپے فی کلو بھی فروخت اور کبھی ٹماٹر 400 روپے، پیاز200 روپے اور آلو 100 روپے کلو تک پہنچتا ہے۔
ایک ملک دنیا سے خریدتا ہے اس میں کوئی برائی نہیں، دنیا کی بڑی معیشتیں بڑی بڑی مالیت میں درآمدات کرتی ہیں، لیکن ان کا پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ درآمدات سے زیادہ برآمدات ہوں، اگر ہم 100 ارب ڈالر کی چیزیں خریدتے ہیں تو 100 ارب ڈالر کی چیزیں فروخت کرتے ہیں تو تجارت متوازن ہے اور اگر 100 کی خریدی اور 50 ڈالر کی فروخت کی تو پھر خسارے میں جا رہے ہیں۔ پاکستان کی معاشی کہانی مسلسل اسی ڈگر پر چلے جا رہی ہے۔ آثار بتا رہے ہیں کہ اس مرتبہ کچھ یوں ہو سکتا ہے کہ 35 کا بیچا اور 80 کا خریدا۔ ابھی تک کوئی ایسی پالیسی سامنے نظر نہیں آ رہی جس سے اندازہ لگایا جا سکے۔ برآمدات زیادہ اور تجارتی خسارہ زیادہ کم ہو۔ یہ خلا بہت سے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے۔
روپے پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں پھر پٹرول مہنگا، بجلی مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگی اس مرتبہ حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں کمی کی ہے لیکن زیادہ تر ٹرانسپورٹرز نے کرائے اسی تناسب سے کم نہیں کیے اور یہ مہنگائی بڑھانے کا سب سے بڑا سبب بنتا چلا جا رہا ہے۔ ہر نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات اشیا کی قیمت بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں، جس سے مہنگائی کا گراف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ دنیا کو خام مال فروخت کرتا ہے اور دنیا یہی خام مال خرید کر تیار مصنوعات بنا کر زیادہ قیمت وصول کر رہی ہے، دوسری تشویشناک بات یہ ہے کہ جب کبھی گندم، چینی، خوردنی تیل، دالیں یا کبھی ٹماٹر یا دوسری غذائی اشیا کی درآمد کا دباؤ بڑھتا ہے تو ہم اس مسئلے کا فوری حل درآمد سے نکال کر خاموش بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کا مستقل حل نہیں نکالتے۔ دیگر اشیا کی بات ایک طرف رہ گئی۔
سال کے مختلف مواقعے پر ایسا ہو رہا ہے کہ کبھی ٹماٹر پیاز کی قلت ہو گئی، دام بڑھ گئے، کبھی گندم کے کاشتکار اپنی فصل کی مناسب قیمت کے انتظار میں یہ فیصلہ کر بیٹھتے ہیں کہ اب جو نقصان ہوا سو ہوا، آئندہ برس گندم کم کاشت کریں گے ہم پہلے سے اس بات کا تدارک کیوں نہیں کرتے کہ کسان کو پیداوار کا مناسب معاوضہ بھی ملے۔ اس کے ساتھ کسان کو پانی، بیج، ذخیرہ کرنے کی سہولت، زرعی مشینری، آلات سرکاری ریٹ پر کھاد کی فراہمی، جعلی کے بجائے اصلی ادویات یہ سب فراہم کریں۔
اس مرتبہ جو کہا جا رہا ہے کہ 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی اور دو سال قبل کی بات ہے جب 37 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی تھی۔ اس طرح تو ہم آہستہ آہستہ ہی نہیں بلکہ تیزی کے ساتھ درآمدات کے قیدی بنتے چلے آ رہے ہیں۔ برآمدات بڑھانے والی درآمدات، صنعت و حرفت کو ترقی دینے والی درآمدات، معاشی ترقی میں اضافے والی درآمدات معیشت کے لیے انتہائی مفید اور ضروری بھی ہیں لیکن درآمدات کی فہرست میں بہت سی اشیا و مصنوعات ایسی ہیں جو ہمیں درآمدی ملک بنا رہی ہیں۔