میثاقِ پاکستان

طالب علم آج ایک نیا سیاسی بیانیہ اور حکمت عملی آپ کے سامنے رکھتا ہے۔ جس کا نام ہے ’’میثاقِ پاکستان۔‘‘ آپ نے میثاق جمہوریت کا نام تو سن رکھا ہے۔


راؤ منظر حیات August 29, 2026

ملک کے معروضی حالات سب کے سامنے ہیں۔ ہر پیچیدگی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ سیاسی نظام، معاشی سست روی‘ ادارہ جاتی زوال پذیری‘ عوامی مسائل سے لا تعلقی‘ یہ سب کچھ اب نہ چھپایا جا سکتا ہے اور نہ چھپایا جا رہا ہے۔ جس سپرپاور کی گود میں ہمارے اکابرین جھولا جھولنے کی کاوش فرما رہے ہیں۔ انھوں نے ہمارے ملک کو، اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ یہاں اپنا کل وقتی سفیر ہی لگا دیں۔

اہل نظر، پریشان ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سوچنا پڑتا ہے، کیا اس خرابے سے واپسی ممکن بھی ہے یا نہیں؟ اکثریت کا بیان ہے کہ شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ دلدل میں پورا ملک اس طرح ڈوبا ہوا ہے کہ بچنے کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ طالب علم کی رائے بالکل مختلف ہے۔ یقین ہے کہ آج بھی ہمارے اکابرین اگر چاہیں تو ایک سے تین برس کی مدت میں ملک کو حددرجہ بہتری کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ یہ رائے نہیں، بلکہ کامل رائے ہے کہ قومیں نشیب سے اونچائی پر گامزن ہو سکتی ہیں۔

جاپان، چین، ساؤتھ کوریا، سنگاپور جیسے متعدد ممالک ہمارے سامنے ہیں۔ جو بربادی کی پاتال تک گئے۔ پھر ان کے پاس حقیقت پسند قائدین آئے جنہوں نے اپنے اپنے ملکوں کو شاداب کردیا۔ یہ کوئی زیادہ دور کی بات نہیں۔ صرف دو چار دہائیوں کا سچا قصہ ہے۔ تاریخ کے جھروکوں میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ آپ کے سامنے، چند خیالات رکھنا چاہتا ہوں جن سے ہمارا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔

طالب علم آج ایک نیا سیاسی بیانیہ اور حکمت عملی آپ کے سامنے رکھتا ہے۔ جس کا نام ہے ’’میثاقِ پاکستان۔‘‘ آپ نے میثاق جمہوریت کا نام تو سن رکھا ہے۔ مگر جب اس کے لکھے ہوئے کاغذ کی سیاہی تک نہیں سوکھی تھی تو سابقہ خاتون وزیراعظم، مشرق وسطیٰ کے ایک ملک میں، جنرل پرویز مشرف کے مقرب خاص کے ساتھ اپنی حکومت میں آنے کا منصوبہ پایا تکمیل تک پہنچا رہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لندن میں لکھا جانے والا میثاق جمہوریت، اپنی اوائل عمری میں ہی ختم ہوگیا۔ اس کی تدفین کا کام پنجاب سے تعلق رکھنے والے قائد اور ان کی جماعت نے کیا۔

یہ بھی میثاق جمہوریت کی نفی تھی اور ہے۔ مگر ایک اور عنصر ایسا سامنے آگیا کہ عوامی ردعمل کا رخ بدل گیا اور وہ ہے چار برس کی گورننس کی ناکامی، دہشت گردی کے جن کا بوتل کو توڑ کر باہر نکلنا،کرپشن کا خاتمہ نہ ہونا اور ایک سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور سزائیں‘ نتیجہ کیا نکلا۔ صفر بٹا صفر۔ طاقتور حلقوں میں بھی ادراک ہونے لگا کہ اس ڈگر سے ملک کے فائدے کا کوئی امکان نہیں۔ یہاں یہ بھی گزارش کروں گا کہ برسراقتدار لوگوں اصل سیاسی فریقین کے درمیان صلح صفائی نہ ہونے دینے کی بھرپور اور مسلسل کوشش جاری ہے۔

کیونکہ انھیں بخوبی اندازہ ہے کہ ایسا ہوا تو ان کی سیاسی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب صرف ماضی میں کی گئی غلطیوں کو سامنے رکھ کر سینہ کوبی کی جائے یا ملکی مفاد میں وہ فیصلے کیے جائیں جن سے روشنی اور ترقی کی کرن لوگوں کے سامنے آئے۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔ اور یہ صرف اور صرف مقتدر ہ ہی کر سکتی ہے۔ سیاست دان ناکام ہو چکے ہیں۔ اب چیدہ چیدہ نکات سامنے رکھتا ہوں تاکہ تمام مثبت معاملہ آپ کی خدمت میں پیش کر سکوں۔

ہمارے ملک میں حقیقت یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل ختم ہونا چاہیے تووہ علمی طور پر تو درست ہو سکتے ہیں مگر عملیت یا زمینی حقائق سے قدرے دور معلوم پڑتے ہیں۔ موقع کی مناسبت سے عرض ہے کہ پوری دنیا میں صائب حکمران اسٹیبلشمنٹ کی رائے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو امریکا ہی کے سی آئی اے، پینٹا گون کو پرکھ لیجیے۔ ان کے فیصلے کو وائٹ ہاؤس بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

لہٰذا ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اہم قومی فیصلوں میں اسٹیبلشمنٹ کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ممکن ہے کہ جب ہماری سیاسی حکومتوں کی کارکردگی بہتر ہو جائے تو یہ زائچہ خودبخود تبدیل جائے۔ اس لیے سمجھتا ہوں کہ طویل مدت کے فیصلے کرنے چاہئیں۔ اگر صدارتی نظام بننے سے ملک ترقی کی طرف چل پڑتا ہے تو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔ ملکی بہتری کے لیے کڑوی دوائی کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ذہن میں صرف اور صرف پاکستان کی معاشی، سیاسی، سماجی ترقی رہنی چاہیے۔ ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر دانش مندی سے لینا چاہیے۔ ’’میثاقِ پاکستان‘‘ مرتب ہونا چاہیے۔ جس میں سب سے پہلے، موجودہ نظام سے جان چھڑائی جانی چاہیے۔ طالب علم کسی سیاسی جماعت کا حامی یا مخالف نہیں ہے۔

صرف اور صرف اپنے ملک کی سالمیت کے لیے دعا گو ہے۔ موجودہ ہائبرڈسیاسی نظام بہت زیادہ مسائل پیدا کر چکا ہے۔ لہٰذا اسے اس میں اصلاح کرنا ضروری ہے۔ دوسری بات، ملک میں طاقت کے دو ستون ہیں۔ عوامی رائے اور پھر ادارہ جاتی طاقت۔ انھیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا دانش مندی نہیں ہے۔ جلسے، جلوسوں اور لانگ مارچوں سے محاذآرائی بڑھ سکتی ہے، کم ہونے کے امکانات بالکل نہیں ہیں۔ چنانچہ ٹھنڈے دل سے معاملات درست کرنے چاہئیں۔ اس میں عوام اور سیاسی فریقین کی بھلائی ہے۔ عوامی طاقت کو ملک کی اندرونی قوت میں بدلنا ہی اصل حکمت عملی ہے۔

لڑائی جھگڑے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ تیسری بات عرض کرتا ہوں۔ عدلیہ کو مکمل طور پر کسی بھی دباؤ سے آزاد کرنا چاہیے۔ یہ ہر فریق بلکہ ہر پاکستانی کی امید ہے۔ اور چند برسوں سے غلط یا صحیح، یہ تاثر موجود ہے کہ عدلیہ شدید دباؤ کا شکار ہے‘یہ تاثر دور کیا جائے تو کم ازکم پچاس فیصد معاملات بہتر ہو جائیں گے۔ اور یہ بالکل مشکل بات نہیں ہے۔ چوتھی بات یہ کہ ملک میں غیرجانبدار سیٹ اپ کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

ایک غیرجانبدار نظام سے ملک کی ساکھ بہتر ہو گی اور پھر ایک مکمل طور پر شفاف الیکشن کرایا جائے۔ یعنی جس کو بھی عوام، ووٹ کے ذریعے حکمرانی دیں، اس جذبہ اور مینڈیٹ کی تکریم ہونی چاہیے۔ بہت سے دانشور، آزادانہ الیکشن کی تجویز سے بدک جاتے ہیں۔ ان کے ردعمل سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ایک صاف ستھرا الیکشن، متعدد مسائل کو حل کرنے کی کنجی ہے۔ اور اس سے عوام میں موجودہ ناامیدی اور یاس کا جذبہ بھی کم ہوتا جائے گا۔ اور آخر میں، معاشی ایمرجنسی لگا کر، معیشت کو فعال کرنا چاہیے۔ کاروباری طیقہ کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائے بغیر، ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانا ازحد ضروری ہے۔ آیئے، ہرتعصب، پسند اور ناپسند سے بالاتر ہو کر، ملک کی خاطر، میثاقِ پاکستان کریں۔ امید ہے اس سے معاملات بہتر ہو جائیں گے۔