79 ویں یوم آزادی پر قوم کو حکومت پاکستان نے یاد دلایا کہ آزادی کی نعمت سے ہی قومی اتحاد اور مستقبل روشن ہے۔ آزادی صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک ذمے داری بھی ہے۔ تشنہ تکمیل اور ناقابل شکست سفر ابھی ختم نہیں ہوا، آزادی صرف آغاز تھی۔ حکومت پنجاب کی طرف سے بتایا گیا کہ ہماری اصل طاقت ہمارے لوگ ہیں۔
معیاری انفرااسٹرکچر، شفاف طرز حکمرانی، پائیدار ترقی اولین ترجیح کے ساتھ مستقبل کی جانب سفر جاری ہے اور پنجاب ترقی کے افق میں نمایاں ہے۔ حکومت سندھ کی طرف سے باور کرایا گیا کہ چودہ اگست یوم آزادی ہی نہیں پاکستان ہماری پہچان، ہمارا فخر اور بزرگوں کی لازوال جدوجہد کا ثمر ہے جس کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت کے لیے اپوزیشن کی طرف سے جو بھی کہا جائے مگر آنکھوں دیکھی حقیقت اور سچائی یہ ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان نے اپنی پہچان ایک ناقابل تسخیر ملک کے طور پر کرا کر عالمی سطح پر اپنی اہمیت کا لوہا منوایا ہے اور دو سال قبل دنیا جس پاکستان کو مانتی نہیں تھی، اسی ملک نے پہلے اپنے پرانے دشمن بھارت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا اور اپنی کامیاب سفارت کاری اور فوجی قیادت نے امریکا ایران جنگ کو رکوا کر دنیا کو تباہی کی جانب روکنے کے لیے موثر ثالثی کا کردار نبھایا جس کی تعریف امریکی صدر، ایرانی حکومت ہی نہیں دنیا بھر میں کی جا رہی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کی قدر اور اہمیت بڑھی ہے۔
عالمی سطح پر اپنی کامیابی، کارکردگی، دفاعی طاقت دکھائے جانے کے بعد سے دنیا بھر سے مختلف ملکوں کے سربراہ، وزرا، حکومتی وفود مسلسل پاکستان آ رہے ہیں جن کے دوروں میں ہونے والے معاہدوں اور باہمی اتفاق رائے سے مستقبل میں یقینی طور پر مختلف شعبوں میں فائدہ ہوگا اور مذکورہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔
صدر مملکت کے بقول پاکستان خطے میں استحکام کی ضمانت بن چکا ہے اور دنیا امن کے لیے پاکستان کی معترف ہے۔ وزیر اعظم نے یادگار فتح کے موقع پر کہا کہ دشمن کی شکست اور معرکہ حق کی شان دار کامیابی سے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہو چکا اور مکہ معاہدہ امن کی علامت ہے۔ پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل کی خدمات کو امریکا و ایران اور دنیا میں جس طرح سراہا گیا ہے، اس کی مثال بلاشبہ ماضی میں نہیں ملتی اور عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی واقعی قوم کے لیے فخر ہے۔
عالمی سطح پر پہلی بار پاکستان کو مقبولیت حاصل ہوئی اور پاکستان کو اہمیت دے کر اس کی قدر بھی کی جا رہی ہے مگر ملک سے مخلص عوام کی اکثریت کے سوا ملک کے ناقدروں کو اپنے ملک کی قدر اب بھی نہیں ہو رہی اور یہ ناقدرے اپنے سیاسی و مالی مفادات کے لیے حقائق تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں اور ملک سے باہر بیٹھے ناقدرے ہی نہیں بلکہ ملک میں بھی موجود بعض سیاسی و غیر سیاسی عناصروں سے پاکستان کی عالمی قدر، اہمیت اور پذیرائی ہضم نہیں ہو رہی اور وہ ملک کے خلاف مذموم پروپیگنڈا ہی نہیں کر رہے بلکہ اپنے وطن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔
پاکستان میں دو طبقے ایسے ہیں جن کی بڑی اکثریت نے اسی ملک میں رہنا اور جینا مرنا ہے، دوسرے طبقے کے مفادات پاکستان سے زیادہ ان ممالک سے وابستہ ہیں جہاں انھوں نے اپنی فیملیاں اور دولت محفوظ کرکے اپنا مستقبل بھی وہیں سے وابستہ کر رکھا ہے اور ان کے لیے پاکستان صرف اور صرف حکمرانی کرنے، زیادہ سے زیادہ مالی مفادات حاصل کرنے کے لیے ہے جن کے نزدیک وہ پاکستان میں غیر محفوظ ہیں اور اسی لیے انھوں نے وہاں کی شہریت لے کر ان سے ہی وفاداری نبھانی ہے۔
جو ناقدرے اس ملک میں اپنا اور اپنی فیملی کا مستقبل محفوظ نہیں سمجھتے ان کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ملک کے ہر شعبے میں موجود ہیں اور انھوں نے مال کما کر باہر محفوظ بھی کر لیا ہے وہ پاکستان سے مخلص ہو ہی نہیں سکتے، ان کا پاکستان سے تعلق صرف مالی مفادات تک محدود ہے اور مقصد حاصل ہوتے ہی انھوں نے ملک چھوڑ جانا ہے کیونکہ ان کے پاس اس ملک کی قدر اونچے عہدے لینے، دولت کمانے کی حد تک تھی اور مستقبل کی منصوبہ بندی انھوں نے اعلیٰ عہدوں پر آتے ہی شروع کر دی تھی۔ پاکستان کی دل سے قدر کرنے والا اکثریتی طبقہ ملک سے نہ صرف مخلص ہے بلکہ اپنے ملک سے وفاداری بھی نبھا رہا ہے جس کا مستقبل صرف پاکستان سے وابستہ ہے ان کا جینا مرنا، ہر مشکل کا سامنا کرنا، اچھا برا وقت ہمت سے گزارنا ان کا فرض اولین بنا ہوا ہے۔
ملک میں ہی رہنے والوں میں سیاسی ناقدروں کی بھی کمی نہیں ،ان کا مستقبل تو پاکستان سے جڑا ہوا ہے مگر وہ سیاسی طور پر تقسیم ہے اور ان کا مقصد صرف اپنے پسندیدہ رہنما اور اس کی پارٹی کو اقتدار میں دیکھنا ہے اور اگر اس کے پسندیدہ رہنما اقتدار سے باہر ہوں تو انھیں یہ ملک اچھا نہیں لگتا اور سیاسی محبت میں وہ ملک کی قدر کی بجائے اپنی پارٹی کی ہدایت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ تو ممکن نہیں کہ ہمیشہ جیالوں، متوالوں اور پسندیدہ حکمرانوں ہی کی حکومت رہے جس کی وجہ سے ان کی ملک سے محبت متاثر ہوتی ہے۔
ناقدروں کو اپنے ملک کے خلاف نعرے لگانا ان کی سیاسی ضرورت بن چکی ہے اور وہ علیحدگی پسندوں کے بہکاوے کا شکار ہیں۔ حکمرانوں کی مخالفت سیاسی دشمنی نہیں بننی چاہیے کیونکہ یہ ملک ہے تو انھیں پسندیدہ حکمران تو مل جائے گا جس نے ان کا نہیں صرف اپنا مفاد اپنی ترجیح مقدم رکھنا ہے کیونکہ اقتدار ان سے کارکنوں کی محبت بھلا دیتا ہے اور ہر بار یہ ثابت بھی ہو چکا ہے، اس لیے سیاسی رہنماؤں سے زیادہ ملک کی قدر ضروری ہے۔ اقتدار آتا جاتا ہے مگر ملک کی قدر یہاں کے مستقل رہنے والوں کی ترجیح نہیں بلکہ ان کا فرض ہے یہ چمن یہ وطن تاقیامت سلامت رہنا ہے۔