پمز سانحہ؛ بچوں کی اموات پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے خلاف کارروائی کی درخواست پر سماعت

عدالت کیسے ڈائریکشن دے سکتی ہے کہ اسے عہدے سے ہٹا دیں، وکیل کی استدعا پر جسٹس سرفراز ڈوگر کے ریمارکس


ویب ڈیسک August 31, 2026

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سانحہ پمز پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے اور کارروائی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی تک ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے حوالے سے کیا ذمہ داری فکس ہوئی ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر  کے روبرو کیس کی سماعت میں وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بچوں کی اموات ہوئی ہیں، یہ واقعہ بہت خوفناک تھا۔ وکیل نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کو عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ عدالت کیسے ڈائریکشن دے سکتی ہے کہ اسے عہدے سے ہٹا دیں۔ وکیل نے بتایا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے پاس سالانہ 20 سے 22 ارب روپے کا بجٹ ہوتا ہے ، پھر بھی ایک بیڈ پر 4،4 بچے پڑے ہوتے ہیں، بجٹ جاتا کہاں ہے؟۔

وکیل درخواست گزار نے استدعا کی کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی سروسز واپس کی جائیں اور انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ میرے خیال میں انہوں نے اسے عہدے سے ہٹا دیا ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ عہدے سے ہٹایا ہے مگر ان پر ذمہ داری فکس نہیں ہوئی۔ انکوائری رپورٹ میں بھی انہیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے بتایا کہ یہ صرف ایک عارضی رپورٹ تھی، مکمل رپورٹ 5 دن میں جمع کروائی جائے گی۔ جس پر عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔