کراچی:
سندھ کابینہ نے فنانس کمیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے متعلق اہم فیصلہ کرلیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے، جن کے مطابق کابینہ نے مالیاتی ماہر کی خدمات حاصل کرنے اور پی پی پی یونٹ کی تنظیم نو کی منظوری دے دی۔
سندھ کابینہ نے صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کی تیاری کے لیے ڈاکٹر اشرف واست کو 6 ماہ کے لیے انفرادی کنسلٹنٹ مقرر کرنے کی منظوری دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر اشرف واست ایوارڈ کی تیاری میں تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔
کابینہ کو بریفنگ دی گئی کہ نئے صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کے لیے تفصیلی مالیاتی تجزیہ کیا جائے گا اور وسائل کی تقسیم کا ماڈل تیار کیا جائے گا۔ نئے ایوارڈ کی تیاری میں سابقہ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈز کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ بریفنگ کے مطابق نئے صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کی تیاری میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور مقامی کونسلوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ اہم ہے۔ انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید مؤثر، مضبوط اور نتیجہ خیز بنانے کا فیصلہ کیا۔
سندھ کابینہ نے سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (دوسری ترمیم) بل 2026 کی منظوری دے دی اور پی پی پی یونٹ کی تنظیم نو کے لیے ایکٹ میں ترامیم منظور کرلیں۔
اس موقع پر دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ پی پی پی یونٹ کو حکومت کی ملکیت والی نجی لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا جائے گا، جس کا نام سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پرائیویٹ) لمیٹڈ ہوگا۔ پی پی پی یونٹ کے تمام اختیارات، فرائض، عملہ اور معاہدے نئی کمپنی کو منتقل ہوں گے۔
موجودہ پی پی پی یونٹ کے تمام ریکارڈ اور زیرِ التوا کارروائیاں بھی نئی کمپنی کو منتقل کی جائیں گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پی پی پی یونٹ کی تنظیم نو سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ادارہ جاتی نظام مضبوط ہوگا، جبکہ مقصد انتظامی و عملی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شراکت داری منصوبوں کی بروقت اور مؤثر تکمیل کے لیے پی پی پی یونٹ کی تنظیم نو کی جارہی ہے۔ نئی کمپنی کو محکموں کے پی پی پی نوڈز مضبوط بنانے کے اختیارات حاصل ہوں گے، جبکہ پی پی پی نوڈز کے لیے معیاری ہیومن ریسورس پالیسیاں اور کارکردگی جانچنے کے نظام متعارف کرائے جائیں گے۔
بریفنگ کے مطابق نئی کمپنی میں رپورٹنگ میکانزم اور استعداد کار میں اضافے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ سندھ کابینہ نے پی پی پی یونٹ کو کارپوریٹ ادارے میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی، تاہم تنظیم نو کے باوجود موجودہ آپریشنز اور ملازمین کی خدمات کا تسلسل برقرار رہے گا۔
سندھ کابینہ نے 5 اگست 2026 کے فیصلے کی روشنی میں پی پی پی یونٹ کی تنظیم نو کی منظوری دے دی۔ فیصلے کے تحت نئی کمپنی پی پی پی منصوبوں کے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے، محکموں کے نوڈز کی استعداد بڑھانے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل میں کردار ادا کرے گی۔