توانائی بحران قیادت کا امتحان

ملکی سیاسی اور اقتصادی صورتحال کا عمومی جائزہ لیا جائے تو عوام کے دل سے اک آہ نکلتی ہے ...


Editorial August 26, 2014
ملکی سیاسی اور اقتصادی صورتحال کا عمومی جائزہ لیا جائے تو عوام کے دل سے اک آہ نکلتی ہے. فوٹو؛فائل

ISLAMABAD: آج کی مہذب جمہوری دنیا میں استحکام کا بنیادی پتھر کسی بھی ملک کی معیشت کو سمجھا جاتا ہے جب کہ فوجی طاقت ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی نگہبان ہوتی ہے، اور خارجی حملوں اور جارحیت کے خلاف ایک ناقابل تسخیر ڈیٹرنس کا درجہ رکھتی ہے تاہم اس بات پر تمام عالمی اقتصادی ماہرین اور مدبرین کا کلی اتفاق ہے کہ مربوط اقتصادی ترقی اور حکومتی ترجیحات کے تحت حاصل ہونے والی ناگزیر خوشحالی کے بغیر جمہوریت ایک فریب نظر ہے جب کہ سیاسی و سماجی تبدیلی کی ضمانت حکمرانوں کی ٹھوس اقتصادی پالیسی ہی دیا کرتی ہے۔

اس تناظر میں ملکی سیاسی اور اقتصادی صورتحال کا عمومی جائزہ لیا جائے تو عوام کے دل سے اک آہ نکلتی ہے مگر اس کے اثر ہونے کو بھی اک عمر درکار ہوتی ہے، چنانچہ کرپشن سے پاک انتظامی ڈھانچہ سے لے کر قانون کی حکمرانی کے فقدان اور سیاسی و اقتصادی مصائب و آلام کی اندوہ ناکی تک ایک وحشت ناک اور عجیب سے وجودی خطرہ کا ملک کو سامنا ہے جو کسی غیر کی کارستانی نہیں بلکہ گڈ گورننس کے فقدان کا داخلی نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔

ایک طرف مادر وطن میں اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں، دوسری طرف اسٹاک مارکیٹ کے کریش ہونے کے سبب 352 پوائنٹس کی کمی ہوئی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے، سرمایہ کاری کا حجم 26ارب روپے گھٹ گیا، پاکستان اسٹیل کی صورتحال کو خصوصی توجہ کا مستحق گردانا گیا، ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے ملکی قرضوں میں 180 ارب ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا، انٹربینک میں ڈالر 6 ماہ بعد 103 روپے پر پہنچ گیا۔ موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا رجحان ہے۔

دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں3 روپے 80 پیسے اضافہ ہوا۔ پیر کو انٹر بینک میں روپے کی قدر میں مزید ایک روپے35 پیسے کمی دیکھی گئی، جس سے ڈالر6 ماہ کی بلند سطح 103روپے پر پہنچ گیا۔ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر ایک روپیہ بڑھ کر 102 روپے 50 پیسے پر جا پہنچا۔ پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضہ 60 ارب ڈالر ہے۔ وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث براہ راست نقصان 180 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان میں 2 ہزار ارب روپے سالانہ ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے، یوں سمجھیے کہ سیاسی بحران کی وجہ سے ریاستی و حکومتی سفینہ مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے اور اسے نکالنے کے لیے بڑے صبر و تحمل، تدبر، دور اندیشی، فہم و فراست اور ویژن کی ضرورت ہے۔ ان اعصاب شکن مسائل کی نوعیت مختلف ہے، لیکن یہ سب پچھلی حکومتوں کا ملبہ ہے اور موجودہ حکمرانوں کی عاقبت نا اندیشی ہے کہ پوری قوم ایک تاریک سیاسی و اقتصادی سرنگ میں خود کو محصور پاتی ہے۔

اس لیے لمحہ موجود ایک قومی آزمائش ہے جس سے نمٹنے کے لیے سیاسی جماعتوں، اپوزیشن اور سول سوسائٹی کو مشترکہ کوششیں کرنی پڑیں گی۔ تاہم ان سارے بنیادی مسائل میں توانائی کے بحران کو اولیت دیے بغیر کوئی چارہ نہیں، جب کہ یہ استدلال ناقابل تردید ہے کہ بجلی کی پیداوار، تقسیم اور اس کے اسٹرکچرل میکنزم کو مستحکم کرنے اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے عوام کو نجات دلانے کے لیے پی پی سمیت کسی بھی حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

سب ڈنگ ٹپاؤ اور ایڈہاک ازم کی اسیر و غلام رہیں ان کی ترجیحات میں بجلی کی طلب و رسد کا کوئی جامع، شفاف اور منضبط نظام شامل نہ ہو سکا۔ لیکن خوش آیند پیش رفت یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اس سمت میں بعض اہم اقدامات کیے ہیں، اور ایران و چین کے اشتراک سے بجلی منصوبوں کی منظوری اور تکمیل کے لیے وزیر اعظم نواز شریف نے خصوصی توجہ دی ہے۔ پیر کو انھوں نے پاک چائنہ مشترکہ کمیشن کے تیسرے اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں کی جانے والی تیاریوں کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس ماہ کے اوائل میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس کے دوران 10400 میگاواٹ کے بجلی کے منصوبوں کو اولین ترجیح دیے جانے کے لیے چینی حکومت کی منظوری پر اپنی توانائی اور اقتصادی ٹیموں کی تعریف کی، انھوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی بر وقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں، پاکستان کے لیے چینی امداد کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ چین ہمارا آزمودہ دوست ہے جو ہماری ضروریات کو سمجھتا ہے اور اس نے ہماری ضروریات کی تکمیل کے لیے ہمیشہ مدد دی۔

اجلاس میں جوائنٹ چائنہ کمیشن کے آیندہ تیسرے اجلاس کی تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پاک چائنہ مشترکہ کمیشن کے تیسرے اجلاس میں انفراسٹرکچر کی ترقی اور توانائی سے متعلق منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔ اجلاس میں اس ہفتے بیجنگ میں ہونیوالے کمیشن کے تیسرے اجلاس کے ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا جس میں پاکستانی وفد کے ارکان وفاقی وزیر منصوبہ بندی، پنجاب اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ اور دیگر سینئر حکام شرکت کرینگے۔

ادھر کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کیطرف سے ایران سے بارٹر سسٹم کے تحت 65 میگاواٹ بجلی کی درآمد اور اس کی ترسیل کے لیے ٹرانسمشن لائن بچھانے کے منصوبے کی منظوری دیے جانیکا امکان ظاہر کیا گیا ہے اور اس کی تفصیل جاری کی جا رہی ہیں۔ ایران سے بارٹر سسٹم کے تحت 65 میگاواٹ یومیہ کے حساب سے بجلی درآمد کرنے کا جائزہ لینے کی بات ہوئی ہے، بجلی ایرانی سرحد سے ملحقہ پاکستانی علاقوں کو فراہم کی جائے گی اور اس بجلی کی سپلائی کے لیے ٹرانسمشن لائن بچھائی جائے گی، ای سی سی کے اجلاس میں ایران سے بجلی کی درآمد و ترسیل کے لیے ٹرانسمشن لائن بچھانے کے منصوبے کی منظوری دینے کا جائزہ لیا جائے گا۔

بہر حال اس سمیت بجلی پیدا کرنے کے جملہ پراجیکٹس جلد تکمیل کے متقاضی ہیں، کیونکہ بجلی کے بغیر اقتصادی ترقی کی باتیں فضول ہیں۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ ملک میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ بدستور جاری ہے جس کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں، ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور اضافی بلنگ نے عوام کو نڈھال کر دیا ہے، ملک بھر سے نامہ نگاروں کے مطابق گرمی کی شدت اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ سے صارفین پریشان ہو گئے ہیں، کاروباری طبقہ کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

متعدد دیہی علاقوں میں بجلی کی بندش کی وجہ سے ٹیوب ویل بند ہونے سے فصلیں سوکھ رہی ہیں اور کپاس کی پیداوار میں کمی کا امکان ہے جب کہ بجلی کی طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے شعبہ زراعت دن بدن تباہی کے دہانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں 12سے 14گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے صارفین کی پریشانی دور کرنے کی ضرورت ہے۔

توانائی بحران اور دیگر سماجی و سیاسی مسائل قومی افق پر موجودہ صورتحال کی ایک پر آشوب تصویر پیش کرتے ہیں۔ دور اندیش سیاسی قیادت امتحان کی ایسی نازک گھڑی میں قوم کی ڈھارس بندھاتی ہے۔ قوم منتظر ہے کہ معاشی سرنگ کے آخری حصے میں امید افزا روشنی کی کوئی کرن پھوٹے۔ قوم کو مایوس نہ کریں۔