سینیٹ کمیٹی کی کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش

کاروباری اوقات کار میں اضافے سے بجلی کی فی یونٹ کاسٹ میں بھی 5 روپے اضافہ ہوگا، پاور ڈویژن


ویب ڈیسک September 01, 2026
فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی ذیلی کمیٹی نے موجودہ کاروباری اوقات کار میں ابتدائی طور پر 30 منٹ اضافے کی سفارش کردی جبکہ پاور ڈویڑن نے کاروباری اوقات بڑھانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے 600 میگاواٹ اضافی بجلی درکار ہوگی اور فرنس آئل پلانٹس چلانے کی صورت میں فی یونٹ فیول کاسٹ میں 5 روپے اضافہ ہوگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت اجلاس میں کاروباری برادری نے مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس اسی وقت بڑھے گا جب کاروبار چلے گا، پاور ڈویڑن حکام نے بتایا کہ ملک کے پاس صرف ایک دن کا ایل این جی اسٹاک ہے جبکہ اسپاٹ کارگوز منگوانے کی صورت میں بجلی مزید مہنگی پڑے گی۔

اجلاس میں کاروباری اوقات کار بتدریج معمول پر لانے کے لیے 30 منٹ اضافے کی سفارش کی گئی، پاکستان سے صنعتوں کی منتقلی، ایف بی آر کی گورننس، افسران کی دہری شہریت، صنعتی پالیسی اور کاروباری برادری کو سہولت دینے کے امور پر بھی غور کیا گیا۔

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ کاروباری برادری کے ساتھ مشترکہ کمیٹیوں سمیت اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں کیمپ آفس قائم کریں گے اور لاہور میں بھی دو روزہ کیمپ آفس قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی نے ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط پر دوبارہ مذاکرات کی سفارش بھی کی اور پاکستان کے صنعتی اور سرمایہ کاری مفادات کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔

اجلاس میں بیٹری انرجی پالیسی، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز، ہاؤسنگ، ایف اے آر فیس، غیر قانونی شیئرز کی منتقلی اور کارٹیلائزیشن کے امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے والے ٹیکس دہندگان کے لیے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی سفارش کرتے ہوئے ایف بی آر اور نادرا کو مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایت کی جبکہ دہری شہریت اور مستقل غیر ملکی رہائش رکھنے والے ایف بی آر افسران کی فہرست بھی طلب کرلی۔

کمیٹی نے سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے کاروبار دوست ریگولیٹری ماحول کو ضروری قرار دیا۔