لاہور:
جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے حکومتی کمیٹی کے سامنے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس کے خاتمے سمیت 3 مطالبات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھ دیے گئے۔
ملک گیر ہڑتال کے دوران حکومتی وفد مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر منصورہ پہنچا جہاں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے حکومتی کمیٹی کے سامنے اپنے مطالبات رکھے۔
جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم منصوعات پر لیوی ٹیکس کا خاتمہ ہمارا پہلا مطالبہ ہے جبکہ آئی پی پیز معاہدے ختم اور بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی کی جائے۔
حکومتی کمیٹی نے کہا کہ آپ کے مطالبات جائز ہیں مگر پیٹرولیم منصوعات کی قیمت عالمی تناظر میں رکھنا ہوں گی، ہماری تو پہلی ترجیح عوام کو ریلیف دینا ہی ہے۔
وفد میں سینیٹر رانا ثنا اللہ خان، وفاقی وزیر احسن اقبال اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن بھی مذاکرات میں شریک تھے۔
جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کر رہے ہیں جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں ڈپٹی سیکریٹری فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری اور نوید علی بیگ شامل ہیں۔
اس سے قبل حکومتی وفد نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات کی۔ حکومتی وفد نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے بہنوئی کی وفات پر تعزیت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عوام کے لیے ریلیف پیکج پیش کیے جانے کی صورت میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن بھی حکومتی وفد سے ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور مہنگی بجلی سمیت عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔
حکومتی وفد اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پیٹرولی لیوی میں کمی سے متعلق جماعت اسلامی کی تجاویز کو سنا، حکومت کی کوشش ہے کہ عام آدمی کو مسلسل ریلیف ملے، جماعت اسلامی نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں جن پر غور کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان کا مقصد یہی ہے کہ مہنگائی اور پیٹرول نرخ میں کمی کی جائے حکومت کا موقف بھی یہی ہے، جنگ کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتیں اوپر چلی گئیں اور عام آدمی پر بوجھ پڑا، جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایسی تجاویز ہیں کہ ان سے مہنگائی و پیٹرول میں کمی آسکتی ہے، ہم ان کے شکر گزار ہیں، حکومت تیار ہے کہ اگر جماعت اسلامی کے پاس ایسی تجاویز ہیں تو ہم اس میں مزید بہتری بھی لاسکتے ہیں، جس طرح بجلی کے سیکٹر میں ایسا ہوا تھا، پیٹرولیم کی ٹیم جماعت اسلامی کی ٹیم کے ساتھ بیٹھے گی اور سنجیدگی سے ان کے ساتھ بات کرے گی اس میں اگر کامیابی ہوگی تو یہ ہمارے اور جماعت اسلامی دونوں کے لیے باعث مسرت ہوگا۔