دمشق: شام نے سابق صدر بشار الاسد کے دور میں قائم خفیہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی مبینہ باقیات تلف کرنا شروع کردی ہیں۔ اقوام متحدہ کے امور تخفیفِ اسلحہ سے متعلق ادارے نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
اقوام متحدہ میں شام کے سفیر کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا عمل عالمی اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ تاہم انہوں نے اسرائیلی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں سے کیمیائی ہتھیاروں کی باقیات تلف کرنے کا عمل متاثر ہورہا ہے۔
شامی حکام کے مطابق رواں سال کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام میں مبینہ طور پر ملوث 18 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں اعلیٰ سطح کے فوجی، سیاسی اور تکنیکی عہدیدار بھی شامل ہیں۔
شامی حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دمشق پر سابق حکومت کے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی باقیات کو محفوظ طریقے سے ختم کرنے اور اس حوالے سے بین الاقوامی تعاون بڑھانے کے لیے دباؤ موجود ہے۔