وزیراعظم سے نائب صدر اے ڈی بی کی ملاقات، ایم ایل1 منصوبے پر عملی کام شروع کرنیکی ضرورت پر زور

ملاقات میں کراچی سے پشاور تک مین لائن (ایم ایل-1) ریلوے کوریڈور کی جدید خطوط پر اَپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دی گئی


ویب ڈیسک September 04, 2026

اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف سے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کی ملاقات ہوئی جس میں ایم ایل-1 منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا۔ ملاقات میں پاکستان اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط ترقیاتی شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی (سی پی ایس) 2026-2030 کے تحت ترجیحی شعبوں میں اقدامات پر غور کیا گیا۔

ملاقات میں کراچی سے پشاور تک مین لائن (ایم ایل-1) ریلوے کوریڈور کی جدید خطوط پر اَپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دی گئی، جو قومی بنیادی ڈھانچے کی ایک اہم ترجیح ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن مال برداری کے نظام کو جدید بنانے، علاقائی تجارتی روابط مضبوط کرنے اور بڑے صنعتی منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ملاقات میں ایم ایل-1 منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ملک میں رابطوں کے نظام کو جدید بنانے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ینگ منگ یانگ کا اس حیثیت سے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان میں شہری بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کے اہم منصوبوں کی تکمیل میں اے ڈی بی کی مسلسل پیشہ ورانہ کارکردگی اور بروقت تعاون کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے سخت مالیاتی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مشکل معاشی بحالی کے مرحلے کو کامیابی سے عبور کیا ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں استحکام آیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا جبکہ فِچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی سمیت عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے لیے مستحکم معاشی منظرنامے کی درجہ بندی کی ہے۔

طویل مدتی معاشی تبدیلی کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے خصوصی ٹاسک فورسز کے ذریعے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے ملاقات میں نجی شعبے کی معاونت، توانائی اور غذائی تحفظ، برآمدات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026-2030 کی ترجیحات کو ٹھوس اور مؤثر اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا، جو پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔