راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال کی حدود میں اکیس سالہ مسیحی خاتون کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ صباء محبوب گھریلو ناچاقی کے باعث شوہر سے الگ اپنے والدین کے گھر رہ رہی تھی، جہاں مبینہ طور پر محلہ دار نے گھر میں داخل ہو کر اسے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ملزم پر قتل کے بعد مقتولہ کے سوتیلے بھائی کو اکیس گھنٹے تک اغوا رکھنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
تھانہ رتہ امرال پولیس نے مقتولہ صباء محبوب کے سوتیلے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اکیس سالہ صباء محبوب کی شادی ذیشان محمود سے ہوئی تھی، تاہم گھریلو ناچاقی کے باعث وہ اپنے والدین کے گھر رہ رہی تھی۔
تین ستمبر کی رات تقریباً نو بجے محلہ دار عدنان بٹ مبینہ طور پر پستول سمیت گھر میں داخل ہوا، صباء کو گالیاں دیں اور بے وفائی کا الزام لگاتے ہوئے اس پر سیدھا فائر کردیا۔ گولی صباء کے ماتھے پر لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی, ایف آئی آر کے مطابق قتل کے بعد ملزم اور اس کے ساتھی نے مقتولہ کے سوتیلے بھائی کو بھی اغوا کرلیا اور دھمکی دی کہ پولیس کو واقعے کی اطلاع دینے کی صورت میں اسے بھی قتل کردیا جائے گا۔
مدعی کے مطابق اسے تقریباً اکیس گھنٹے تک اغوا رکھا گیا۔ پولیس نے مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی ہے۔ مقدمے میں قتل، اغوا اور گھر میں داخل ہونے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں جبکہ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے شروع کردیے ہیں۔