پی پی سرائیکی صوبے کی حمایت کرتی ہے مزید انتظامی یونٹس پر سندھودیش کا ذکر شروع ہوجاتا ہے، خواجہ آصف

میں پیپلز پارٹی کی اس دو رخی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں اور کسی وقت مناسب موقع پر اس کی تشریح بھی کر دوں گا


ویب ڈیسک September 04, 2026
فوٹو: فائل

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جب پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ہوتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے یا کم از کم اس معاملے پر نرم گوشہ ظاہر کرتی ہے۔ لیکن جب چار صوبوں کے بجائے متعدد صوبوں یا انتظامی یونٹوں کی بات کی جاتی ہے تو سندھودیش کا نعرہ سامنے آجاتا ہے۔

خواجہ آصف نے ایکس پر بیان میں کہا کہ میں پیپلز پارٹی کی اس دو رخی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں اور کسی وقت مناسب موقع پر اس کی تشریح بھی کر دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اول و آخر پاکستانی ہیں۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ایک آئینی اصول ہے، جسے 18ویں ترمیم کے ذریعے مزید تقویت دی گئی لیکن اس اصول کا اس کی روح کے مطابق احترام نہیں کیا گیا۔

وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ اس اصول پر دیانت داری کے ساتھ عمل کیا جائے تاکہ جمہوریت گراس روٹ لیول پر پنپ سکے اور عوام اس کے ثمرات سے حقیقی معنوں میں مستفید ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ بات صرف اتنی ہے کہ موجودہ نظام اختیارات کے ارتکاز کی وجہ سے متروک ہوچکا ہے۔ اسے دیانت داری کے ساتھ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبے بنائیں یا انتظامی یونٹ، نام جو مرضی رکھ لیں، اصل مسئلہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس 36 ڈویژن موجود ہیں، انہیں ہی بنیاد بنا لیں یا کوئی اور انتظامی جغرافیائی اسکیم وضع کرلیں۔ اصل ضرورت اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے اور یہ عمل اب ناگزیر ہوچکا ہے۔