پنجاب آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب قائم کرنے والا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا

مجھے تھریٹ میرے پڑوسی ملک سے کم ہے، لیکن میرے پڑوسی صوبے سے زیادہ ہے وہاں سے دہشت گردی پنجاب میں آتی ہے


ویب ڈیسک September 05, 2026

وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیفٹک آفس میں اے آئی انٹیلی جنس ہب کی ای لانچنگ کی اور اے آئی انٹیلی جنس ہب پراجیکٹ کا افتتاح کیا، پیفٹک ہیڈکوارٹر میں اے آئی انٹیلی جنس پراجیکٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چند ماہ پہلے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے تصور نے عملی شکل اختیار کر لی، پاک فوج اور کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں، تعاون قابلِ تحسین ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ریکارڈ وقت میں اے آئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب کے قیام پر منسٹر ہوم خواجہ سلمان رفیق، سیکرٹری ہوم احمد جاوید قاضی اور دیگر افسران کو شاباش اور مبارکباد پیش کرتی ہوں، پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شاباش کے مستحق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام سیکیورٹی اداروں نے عوام کی حفاظت اور امن و امان کے قیام کے لیے ون یونٹ بن کر کام کیا،  سیکیورٹی میں مشکلات اور چیلنجز کے باوجود قابلِ فخر کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب ایسا صوبہ ہے جو ہر مشکل وقت میں عوام کے لیے فوراً رسپانس دیتا ہے، گزشتہ سال بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال میں پوری ٹیم نے ون یونٹ بن کر کام کیا، رواں سال جس طرح بارشیں ہورہی ہیں، سیوریج اور ڈرینج کی خراب صورتحال کے باوجود بارشی پانی نکال دیا جاتا ہے، پنجاب بھر کے سیوریج اور ڈرینج سسٹم کی مکمل درستگی اور بحالی کے لیے اربوں نہیں کھربوں درکار ہیں، مریم نواز شریف۔ اے آئی انٹیلی جنس ہب کے قیام کے بعد ڈسٹرکٹ میں آرڈینیشن کمیٹی کو ڈیجیٹل الرٹ جاری کریں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں اب اقلیتوں کے ساتھ جرائم یا غیر مناسب سلوک روا نہیں رکھا جاسکتا، مریم نواز شریف۔ ماضی میں ڈرگز ہر گلی محلے میں نئی نسل کے لیے خطرہ بن چکی تھی، اب ایسا نہیں ہے۔ پنجاب میں کچھ عرصہ پہلے تک کرائم کی صورتحال بہت خراب تھی، دن دیہاڑے قتل ہوجاتے تھے، پنجاب کے کئی اضلاع میں روزانہ پانچ پانچ، چھ چھ قتل ہوجاتے تھے۔ کچھ جماعتیں مذہب کا کور لے کر منافرت پھیلانے میں ملوث رہی ہیں، پولیس کچھ عرصے تک سارے کام چھوڑ کر منافرت پھیلانے والوں کو سنبھالنے میں مصروف رہتی تھی، مریم نواز شریف۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محرم الحرام، عید میلاد النبیؐ اور دیگر تہوار اچھے ماحول میں گزر گئے۔

وقت سے پہلے مسائل کے حل کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے بحیثیت قوم ہم سمجھتے ہیں کہ قانون صرف دکھانے کی چیز ہے، جہاں قانون نافذ کیا جائے بلاتفریق و امتیاز انصاف کے ساتھ پاور دکھائی جائے، جب قانون دوسروں پر نافذ ہو تو ہم خوش ہوتے ہیں،  تجاوزات کے سدباب کے لیے آپریشن کے دوران کسی ریڑھی والے کو اٹھانے پر افسوس ہوتا تھا، ہم نے ریڑھی والوں کو اٹھایا نہیں بلکہ روزگار کے لیے متبادل جگہ بھی دی۔

بائیک سواروں کو ہیلمٹ پہنانا بہت مشکل کام تھا، اب اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب کوئی ہیلمٹ کے بغیر نظر نہیں آتا، ہیلمٹ پہننے یا نہ پہننے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن بائیک سوار بغیر ہیلمٹ اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے۔ بچوں کو روزگار کے لیے گھر سے باہر بائیک پر بھیجنے والی ماؤں کی مجھے پروا ہے، لاہور میں ٹریفک کے لیے لین ڈسپلن نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، پنجاب بھر میں زبیرا کراسنگ کامیابی سے نافذ ہورہی ہے، سڑک پر پیدل چلنے والوں کو بھی ڈسپلن اور قوانین کی پابندی کی ٹریننگ کی ضرورت ہے۔

لاہور بسنت کے حوالے سے جانا جاتا تھا، لیکن ڈور سے گردنیں کٹنے لگی تو پابندی لگانا پڑی، لاہور میں بسنت کا انعقاد مشکل فیصلہ تھا، لیکن ہم نے کر کے دکھایا، اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محفوظ بسنت منائی، پانچ بجے وقت ختم ہونے پر کوئی پتنگ آسمان پر نظر نہیں آئی، قانون کی پاسداری ہر لحاظ سے مستحسن اقدام ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جرائم میں 70 فیصد تک کمی آچکی ہے، بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والے ذہنی مریض ہیں، 10 ماہ کی بچی کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات انسانیت پر اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں، عوام اپنے اور جان و مال کے تحفظ کے لیے میری طرف دیکھ رہے ہیں۔

پیفٹک ہیڈکوارٹر میں اے آئی انٹیلی جنس… pic.twitter.com/tYPz7WQKY1

— PMLN Punjab (@PMLNPunjabPk) September 5, 2026