ملک بھر کے امتحانی نظام میں اہم اصلاحات کی منظوری

امتحانی اور اسیسمنٹ نظام میں ملک بھر میں یکسانیت لانے کے اقدامات کی منظوری دی گئی


ویب ڈیسک September 05, 2026

184ویں آئی بی سی سی فورم میں ملک بھر کے امتحانی نظام کو رٹہ سسٹم سے فہم اور تصوراتی جانچ کی جانب منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ امتحانی اور اسیسمنٹ نظام میں ملک بھر میں یکسانیت لانے کے اقدامات کی منظوری دی گئی۔

نئی گریڈنگ پالیسی کے تحت کم از کم پاسنگ مارکس 40 فیصد مقرر کیے گئے ہیں۔ سندھ، فیڈرل، میرپور آزاد کشمیر، قراقرم، آغا خان اور ضیاء الدین بورڈز میں نئی گریڈنگ پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سرٹیفکیٹس پر ب فارم یا شناختی کارڈ نمبر درج کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

آئی بی سی سی بورڈز کے پوزیشن ہولڈرز کو اسکالرشپس اور بیرونِ ملک تعلیمی مواقع فراہم کرے گا، جبکہ نمایاں طلبہ کے لیے ونٹر اور سمر کیمپس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مزید 12 دینی مدارس کی اسناد کو سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ کے مساوی قرار دینے کی سفارش کی گئی، جس کے بعد آئی بی سی سی فریم ورک کے تحت مساوی اسناد والے دینی مدارس کی تعداد 26 ہوگئی ہے۔

غیر ملکی بورڈز کے طلبہ کے لیے سائنس گروپ کی مساوات کے قواعد میں اہم سہولت دیتے ہوئے دو سائنس مضامین پاس کرنے والے غیر ملکی بورڈز کے طلبہ کو سائنس گروپ کی ایکوی ویلنس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملک بھر میں تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات کے لیے یکساں کیلنڈر تیار کرنے پر اتفاق، جبکہ پریکٹیکل امتحانات کے لیے مشترکہ گائیڈ لائنز اور طریقۂ کار وضع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

امتحانی نظام میں شفافیت کے لیے ای مارکنگ کے فروغ پر زور دیا گیا۔ پنجاب میں میرٹ پر بورڈ چیئرپرسنز کی تقرری قابلِ تحسین ہے، ڈاکٹر غلام علی ملاح۔ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں ای مارکنگ اہم پیش رفت ہے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی۔ امتحانی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اصلاحات کا بنیادی مقصد ہے، ڈاکٹر غلام علی ملاح۔

آئی بی سی سی نے پاکستانی تعلیمی اسناد کی ساکھ اور بین الاقوامی شناخت مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ملک بھر میں شفاف، طلبہ دوست اور بین الاقوامی معیار کا امتحانی نظام قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔