امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ایران جنگ اپنے فوجیوں کے جانی نقصان کو تسلیم کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں 18 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے اس بیان کی تردید کردی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران جنگ میں کسی امریکی کی جان نہیں گئی۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر وزیر تجارت کے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ لٹنک کے ذہن میں وینزویلا کی فوجی کارروائی تھی جہاں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا جبکہ ایران کے تنازع میں 18 امریکی فوجی مارے گئے۔
لٹنک نے ’کوئی امریکی ہلاکت نہیں‘ کا دعویٰ کیا تھا
یاد رہے کہ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے ایک روز قبل امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران جنگ میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔
لٹنک نے ایران کے خلاف امریکی پالیسی کو بنیادی طور پر معاشی دباؤ اور ’اقتصادی گلا گھونٹنے‘ کی حکمت عملی قرار دیا اور کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہوگی۔
تاہم ان کا یہ بیان امریکی دفاعی اعداد و شمار سے متصادم تھا۔ امریکا کے مطابق ایران جنگ کے دوران 18 امریکی فوجی ہلاک اور 750 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
میں غلطی کر گیا، خاندانوں سے معذرت خواہ ہوں
اس بیان پر امریکی فوجیوں کے اہل خانہ نے احتجاج کیا تھا جب کہ عوامی سطح پر بھی شدید تنقید کی گئی تھی جس کے جواب میں لٹنک نے بھی اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ غلطی سے بول گئے تھے اور ان کے ذہن میں ایران کے بجائے وینزویلا کی فوجی کارروائی تھی۔
وزیر تجارت لٹنک نے کہا کہ امریکی فوج کے 18 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور وہ جاں بحق فوجیوں کے خاندانوں سے دلی معذرت خواہ ہیں۔ وینزویلا میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا تھا اسی وجہ سے وہ دونوں واقعات کو خلط ملط کر بیٹھے۔