جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے حکومت کو تجاویز پیش کردیں

چھ تجاویز حکومت کے سامنے رکھی ہیں، لیاقت بلوچ، بعض جگہ حکومت مجبور ہوتی ہے تاہم تجاویز کا جائزہ لیں گے، احسن اقبال


اسٹاف رپورٹر September 07, 2026

اسلام آباد:

پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی کا وفد وزارتِ منصوبہ بندی پہنچا جہاں دونوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا، دوسرا دور جمعرات کو ہوگا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارتِ منصوبہ بندی پہنچنے والے جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کی۔ وفد میں سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان، ضیاءالدین انصاری ایڈووکیٹ، نوید علی بیگ اور شاہد نعیم شامل تھے۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی ان کے ساتھ حکومتی ٹیم میں رانا ثناءاللہ خان، علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی شامل تھے۔

وفد کی آمد کے بعد کانفرنس روم میں دونوں جانب سے مذاکرات ہوئے، جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے تجاویز پیش کی گئی۔

بعدازاں مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا جس کے بعد مشترکہ میڈیا ٹاک کی گئی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے جماعت اسلامی کو دعوت دی تھی اور ان سے تجاویز مانگی تھیں، حکومت کبھی نہیں چاہتی کہ عوام پر بوجھ پڑے دنیا بھر کی معیشتیں ایران جنگ سے متاثر ہوئی ہیں، بعض جگہ حکومت مجبور ہوتی ہے، جماعت اسلامی نے اپنی تجاویز ہمیں دی ہیں، ہم جماعت اسلامی کی تجاویز کا جائزہ لیں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اگر کوئی تجویز ناقابل عمل ہوئی تو وہ بھی جماعت اسلامی کے سامنے رکھیں گے، متعلقہ اداروں کی رائے لے کر جمعرات کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے جماعت اسلامی سے مذاکرات کے ٹیم بنائی گئی ہے، ہم نے اپنی تجاویز حکومتی ٹیم کے حوالے کردی ہیں،  ہمارا دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا، ہم نے حکومتی ٹیم کو بھی آگاہ کردیا ہے، ہم نے حکومتی ٹیم کے سامنے تمام چیزیں رکھی ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کو بتایا ہے کہ آپ کے پیٹرولیم لیوی سے معیشت متاثر ہے، ہم نے چھ تجاویز حکومت کے سامنے رکھی ہیں، آج مذاکرات کا پہلا راؤنڈ خوشگوار ماحول میں ہوا ہے۔