کراچی:
شہر قائد میں منگھو پیر کے علاقے اجتماع گاہ مہران سٹی میں گھر میں ڈکیتی کے لیے داخل ہونے والے مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 15 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
مقتول کی شناخت روشم کے نام سے ہوئی ہے، جو میٹرک کا طالب علم اور پوزیشن ہولڈر تھا۔ مقتول 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔
مقتول کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 6 مسلح ڈاکو واردات کی نیت سے ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے جن میں سے 2 افراد پولیس کی وردی میں ملبوس تھے۔
والد کے مطابق ڈاکوؤں کی آہٹ سن کر وہ اپنے کمرے سے باہر آئے، اسی دوران دوسرے کمرے سے ان کا بیٹا بھی باہر نکلا۔
ملزمان نے اچانک فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ان کے بیٹے روشم کو سینے میں گولی لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20 سے 25 روز سے علاقے میں پولیس یونیفارم میں ملبوس ملزمان وارداتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے پولیس کو علاقے میں ہونے والی وارداتوں سے پہلے ہی آگاہ کیا تھا، تاہم ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔
مقتول کے والد نے اعلیٰ حکام سے ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی تدفین اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوجاتے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ مقتول کی لاش کے ہمراہ نیو ناظم آباد کے باہر احتجاج کیا جائے گا، جبکہ اس کے باوجود ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو بلاول ہاؤس کے باہر لاش کے ہمراہ احتجاج کیا جائے گا۔
والد نے مطالبہ کیا کہ پولیس فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کرے اور علاقے میں پولیس یونیفارم پہن کر وارداتیں کرنے والے گروہ کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔