اسرائیل نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کے اعلان کے بعد سخت جوابی اقدامات کا اعلان کردیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون ساعر نے کہا کہ یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کرے گا۔ یہ اقدام برطانیہ کے خلاف اسرائیل کی جانب سے اعلان کردہ چار جوابی اقدامات میں شامل ہے۔
اسرائیل نے مزید اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کے 11 ارکان پارلیمنٹ کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان شخصیات میں زارہ سلطانہ، جیریمی کوربن اور ڈائین ایبٹ بھی شامل ہیں۔
ایڈ ملی بینڈ نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض آبادکاروں کی جانب سے کارروائیوں کو نسلی تطہیر قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی حکومت پر ان اقدامات کے حوالے سے آنکھیں بند رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔ فرانس، کینیڈا، اسپین اور پولینڈ سمیت 11 ممالک بھی مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے حوالے سے اسی نوعیت کی پابندیاں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید 1,200 نئے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے، جبکہ رواں سال فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں، فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے معاملات پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔