امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی منڈی میں بڑھتی تیل کی قیمتوں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے ایک بار پھر بڑا دعویٰ کردیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ایران انتخابات کے بعد مزید جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد ایران جنگ ختم ہوجائے گی کیونکہ وہ مزید مقابلہ نہیں کرسکتے۔ انتخابات کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے نیچے آنے والی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک طرف ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے میں دلچسپی نہ ہونے کا دعویٰ کیا تاہم دوسری جانب مذاکرات کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔
صحافیوں کے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ سچ کہوں تو مذاکرات کا انتظارنہیں کر رہے لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع بھی ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کو ایک مرتبہ پھر اپنی تشویش کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کی خواہش جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہے اور اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آگئے تو پوری دنیا مشکل میں پڑ جائے گی۔
انہوں نے ممکنہ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ اب میز پر ایسے کئی معاملات آسکتے ہیں جو تین ماہ قبل زیر بحث نہیں تھے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس وقت ان کا بہت کم ملک باقی رہ گیا ہے۔