2 ہزار کی معمولی رقم پر سفاک شوہر نے 7 ماہ کی حاملہ بیوی کو ڈنڈے مار کر قتل کردیا

نشے میں دھت ملزم نے بہو کو بچانے کے لیے آنے والی اپنی ماں کو بھی نہیں بخشا اور بے رحمانہ تشدد کیا


ویب ڈیسک September 10, 2026
شوہر نے بیوی کو بچانے کیلیے آنے والی اپنی ماں کو بھی تشدد ک نشانہ بنایا ( فوٹو: فائل)

بھارتی ریاست اترپردیش میں رقم کے تنازع پر شوہر نے مبینہ طور پر 7 ماہ کی حاملہ بیوی کو ڈنڈے سے تشدد کرکے قتل کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دل دہلا دینے والا یہ واقعہ ضلع ہردوئی کے بِلگرام کوتوالی کی حدود میں واقع میورا گاؤں میں پیش آیا جہاں 24 سالہ بیوی کرن کا اپنے شوہر وشال پال سے رقم کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا۔

دونوں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد جھگڑا شدت اختیار کرگیا اور وشال نے مبینہ طور پر کرن کو ڈنڈے سے پیٹنا شروع کردیا جس پر کرن کی ساس پریما نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو ملزم نے اپنی والدہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

کرن کو شدید زخمی حالت میں ایمبولینس کے ذریعے بِلگرام کمیونٹی ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کردیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حاملہ بیوی کو ڈنڈے سے مارنے والا وشال شراب کے نشے میں دھت تھا جسے گرفتار کرلیا گیا اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔

رقم کے معاملے پر جھگڑا کیسے ہوا؟

ملزم کی والدہ پریما نے بتایا کہ ان کا بیٹا وشال اپنی بیوی سے دو روز قبل دی گئی رقم کا حساب مانگ رہا تھا جس پر بہو نے بتایا کہ ابھی 2 ہزار روپے ہیں اور یہ رقم راشن یا دیگر ضروری اشیا پر خرچ نہیں کرنا چاہتی کیونکہ بعد میں بھی پیسوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ملزم کی ماں نے مزید بتایا کہ اس نے اپنے بیٹے کو رقم کے معاملے پر اصرار نہ کرنے اور بات ختم کرنے کو کہا تاہم وشال نے اسے بھی مداخلت سے منع کیا اور مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

پریما کے مطابق جب وشال نے کرن کو مارنا شروع کیا تو وہ اسے بچانے کے لیے آگے بڑھی لیکن وشال نے اسے دھکا دے کر گھر سے باہر نکال دیا۔ اس کے بعد اس نے پڑوسیوں سے مدد مانگی اور پولیس کو اطلاع دی۔

پریما نے الزام لگایا کہ وشال نے کرن کو بانس کے ڈنڈے سے مارا اور اس کے ہاتھ میں لوہے کا کڑا بھی تھا۔ تاہم وہ یہ واضح نہیں کرسکی کہ کرن کے سر پر آنے والی چوٹ ڈنڈے یا لوہے کے کڑے سے لگی۔

پہلے بھی تشدد کے الزامات

کرن کی ساس نے دعویٰ کیا کہ ان کا بیٹا وشال اس سے پہلے بھی کرن کو تشدد کا نشانہ بنا چکا ہے اور مبینہ طور پر اس کا ہاتھ توڑ دیا تھا۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ وشال نے اپنے والد اور بہن پر بھی تشدد کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کی جانب سے شکایت موصول ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کرن اور وشال کی شادی تقریباً 3 سال قبل ہوئی تھی۔ دونوں کی ایک سال کی بیٹی بھی ہے جبکہ کرن دوسری مرتبہ حاملہ تھی اور واقعے کے وقت حمل کے ساتویں ماہ میں تھی۔