بلوچستان کو کوئٹہ میں بیٹھ کر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، انتظامی بنیاد پر صوبے بننے چاہئیں، سرفراز بگٹی

ہم نئے صوبے بنانے کے لیے تیار ہیں تاہم پہلے قومی اسمبلی میں صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے ہونا چاہیے، وزیراعلیٰ بلوچستان


عامر الیاس رانا September 12, 2026
فائل فوٹو

بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو انتظامی طور پر کوئٹہ میں بیٹھ کر ایک اکائی کے طور پر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، ملک میں صوبے لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں اور نئے صوبوں کے قیام پر قومی اسمبلی میں اتفاق رائے ہوا تو بلوچستان اسمبلی بھی تیار ہے۔

کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم نئے صوبے بنانے کے لیے تیار ہیں، تاہم پہلے قومی اسمبلی میں صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے ہونا چاہیے، قومی اسمبلی میں اتفاق رائے ہوجائے تو بلوچستان اسمبلی بھی اس معاملے پر تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کو صوبوں کے قیام پر اعتراض نہیں، تاہم صوبوں کی تشکیل انتظامی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان حکومت کی اڑھائی، اڑھائی سالہ مدت سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ ان کے علم میں نہیں ہے، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان معاملات موجود ہیں، اڑھائی سال کا وقت گزر چکا ہے، اب اس حوالے سے فیصلہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو کرنا ہے۔

بلوچستان کی سیکیورٹی صورت حال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے موجودہ حالات میں سول ملٹری توازن انتہائی ضروری ہے، سب کو مل کر امن کی جنگ جیتنی ہے اور کسی قسم کا عدم توازن برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم فیصلے کرتے ہیں اور صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے، حکومت نے حلف لیا ہے کہ کوئی سیکریٹری بھرتیوں میں کرپشن نہیں کرے گا، فاریسٹ ڈپارٹمنٹ میں بھرتیوں کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور کسی قسم کی کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ جو لوگ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے، ان کے خلاف ہر صورت کارروائی کی جائے گی، حکومت اپنا کام کر رہی ہے اور اسے بہترین انداز میں جاری رکھے گی۔

بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے معاملے پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ تھا اور اب بھی ہے، تاہم ریاست نے قانون کا راستہ فراہم کیا ہے، حکومت جس شخص کو گرفتار کرتی ہے، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے، اسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے، طبی معائنہ کرایا جاتا ہے اور اہل خانہ سے ملاقات بھی کرائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی لاقانونیت نہیں اور حکومت قانون کے دائرے میں رہ کر کام کر رہی ہے۔

سرفرازبگٹی نے کہا کہ جس طرح پاکستان بھر میں انتخابات ہوئے، اسی طرح بلوچستان میں بھی ہوئے اور یہاں بھی سیاسی مینجمنٹ اسی انداز میں ہوئی، بلوچستان کے قوم پرست عناصر میں بعض علیحدگی کی مہم چلاتے ہیں اور عام لوگوں کو اپنی مہم چلانے کی اجازت نہیں دیتے، جو عوام کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے، کبھی ایک جماعت کامیاب ہوتی ہے اور کبھی دوسری، یہ تمام جماعتیں قوم پرست ہیں۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے صوبوں سے متعلق بیان پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہیں یہ پیغام اچھا نہیں لگا، بلوچستان ایک بفر زون ہے، ہم پہلے پاکستانی ہیں پھر بلوچ ہیں، پنجاب اور سندھ کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بے فکر رہیں، بلوچستان حکومت انہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونے دے گی۔

دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

افغان نیشنل آرمی کے دہشت گردوں کو پناہ دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان عناصر کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور بلوچستان میں ان کی موجودگی کم سے کم کی جا رہی ہے۔