رضااللہ ہیرو، زیرو پھر ہیرو

سرفراز کو کوچنگ سے اس لیے ہٹایا کہ عبید شاہ کو نہیں کھلایا، ہیسن نے بھی نہیں کھلایا تو کیا انھیں بھی ہٹا دیا جائے گا؟


سلیم خالق September 14, 2026

ایجبسٹن ٹیسٹ کا پہلا دن، رضااللہ کی 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ، جوروٹ جیسے بہترین بیٹر کو پویلین بھیجنے میں کامیاب

’پاکستان کو نیا وقار یونس مل گیا، کیا بولر ہے بھائی واہ، اتنا اچھا پیسر جب موجود تھا تو پہلے کیوں منتخب نہیں کیا‘

میچ کا دوسرا دن، رضااللہ کی مزید تین وکٹیں لیکن بولنگ اسپیڈ خاصی کم ہو گئی، چار وکٹوں کے لیے 148 رنز دے دیے، سب سے زیادہ اکانومی ریٹ کا منفی ریکارڈ

’کیا بیکار بولر ہے یار، ایسے ہی لا کر ڈیبیو کروا دیا، پاکستان میں ٹیسٹ کیپ کی کوئی ویلیو ہی نہیں رہ گئی، اس سے اچھے کئی بولرز فرسٹ کلاس کرکٹ میں موجود ہیں انھیں کیوں نہیں بھیجا‘

میچ کا تیسرا دن، رضااللہ کے 9 چھکے، ساؤدی کا ریکارڈ برابر،81 رنز کی زبردست اننگز

’واہ کیا پلیئر ہے، یہ تو وسیم اکرم جیسا آل راؤنڈر بنے گا، اس میں تو بہت آگے جانے کی صلاحیت موجود ہے‘

گزشتہ چند روز میں رضااللہ کے ساتھ جو ہوا وہ کسی کہانی جیسا لگتا ہے، ایک دن ہیرو، اگلے روز زیرو، پھر  اگلے دن ہیرو، کرکٹ ایسا ہی فنی گیم ہے، یہاں  جتنی جلدی کسی کو آسمان پر بٹھایا جاتا ہے اتنی تیزی سے زمین پر پٹختے بھی ہیں، بعض کھلاڑیوں کو یہ تجربہ حاصل کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں لیکن رضااللہ کو تین دن میں ہی اس کا  اچھی طرح اندازہ ہو گیا، اگر انھوں نے اس سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے قدم زمین پررکھے تو بہت آگے جا سکتے ہیں، ورنہ بہت سی مثالیں موجود ہیں جب پلیئرز 1،2 میچ میں  اچھے لگے لیکن پھر کچھ نہ کر سکے۔

ہم عرصے سے یہ بات کر رہے ہیں کہ پاکستانی بیٹرز ڈر کر کھیلتے ہیں، ان کے ذہن میں یہی سوچ ہوتی ہے کہ اسکور نہ کیا تو ٹیم سے باہر ہو جائیں گے، اس کا ان کو بیحد نقصان ہوتا ہے، رضا کے کھیل میں خوف کا کوئی عنصر نہ تھا، انھوں نے بے فکری سے بیٹنگ کی، میں موازنہ نہیں کرنا چاہتا لیکن سچ کہوں تو ان کو دیکھ کر مجھے وہ شاہد آفریدی یاد آ گیا جس نے 37 بالز پر سنچری کا ریکارڈ بنایا تھا، اس وقت بغیر ہیلمٹ کے بھی چھکے لگانے والے نوعمر شاہد کے چہرے پر جو اعتماد تھا وہی رضا میں نظر آیا، جس طرح میچ کے بعد شاہد آفریدی نے معصومیت سے انٹرویو دیا تھا ویسا ہی رضا نے دیا، دونوں ہی پٹھان دل سے کھیلتے ہیں، رضا کو دماغ کا استعمال بھی کرنا ہوگا۔

ہمیں ان کا وقار یونس سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے، رضا کو رضا ہی رہنے دیں، اب ان کی کامیابی کے بعد کریڈٹ لینے والوں کی لائن لگ چکی، کوئی پی ایس ایل سے سامنے آئے گا، کوئی کہے گا میں نے اسے کرکٹ سکھائی، اصل میں کون لوگ ان کے کیریئر کو بنانے میں شامل ہیں یہ وہ خود ہی بتائیں گے۔

پوری سیریز کے دوران انگلش میڈیا شور مچاتا رہا کہ یہ کس ٹیم کو کھیلنے بلوا لیا، سابق کرکٹرز ناراضی ظاہر کرتے رہے کہ کمزور ترین ٹیم کو مدعو کیا گیا ہے، شائقین بھی اداس ہی رہے، سیریز میں سب سے زیادہ تالیاں اس وقت بجیں جب بڑی اسکرین پر دکھایا گیا کہ ایک شخص بیئر کے کئی گلاس لے کر آ رہا تھا مگر توازن خراب ہونے سے سب گر گئے، البتہ تیسرے ٹیسٹ کے آخری (چوتھے) دن سب کچھ تبدیل ہو گیا۔

انگلش شائقین کی خاص بات یہی ہے کہ اپنی ٹیم کی پٹائی پر وہ بھی خوش ہوتے ہیں، بھارت کی طرح کا ماحول نہیں ہوتا جہاں مکمل خاموشی چھا جاتی ہے، رضا نے جب چھکے لگائے تو اسٹیڈیم میں خوب شور مچتا رہا اور جب وہ آؤٹ ہوئے تو لوگوں نے نشستوں سے اٹھ کر انھیں داد دی، سیریز میں اس سے پہلے پاکستانی ٹیم کیلیے اتنی تالیاں نہیں بجیں جتنی چند منٹ میں ایک نوجوان کرکٹر کیلیے بج گئیں، وہ گورے جو پاکستان کرکٹ کو ختم شد قرار دے رہے تھے، ایک بار پھر ٹیلنٹ کے گن گانے لگے، ایک اننگز نے سارا ماحول تبدیل کر دیا۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ایسا پلیئر موجود تھا تو سلیکٹرز کو پہلے کیوں نظر نہیں آیا، مخصوص کرکٹرز پر مشتمل ٹیم تو کوئی بھی بنا سکتا ہے اصل بات تو ایسے ٹیلنٹ کو مواقع دینے کی ہی ہے جو کچھ کر کے بھی دکھائے۔

خیر رضااللہ کی اچھی کارکردگی کے سبب ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 72 سال میں پہلی بار انگلینڈ میں کلین سوئپ ہوا، کپتان بدلا، کوچ بدلا، پلیئرز بدلے پھر بھی شکست ہی ہاتھ آئی، اس کا مطلب مسئلہ کچھ اور ہے، اگر ملک میں ٹیلنٹ ختم ہو گیا تو رضااللہ کیسے سامنے آیا؟ ٹیلنٹ ہے مگر تلاش کرنے والی آنکھیں شاید موجود نہیں، ایک بار سلیکشن کمیٹی کو بھی بدل کر دیکھ لینا چاہیے، اس کا سربراہ بھی بنائیں، ایک سال سے فرسٹ کلاس میچ نہ کھیلنے والے صائم ایوب کو انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ جس بقراط نے کیا اس سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے، اچھا خاصا کیریبیئن لیگ میں ان کا اعتماد واپس آ رہا تھا ایجبسٹن میں پیئرسے پھر پرانے فیز میں چلے گئے ہوں گے، جو پلیئر جس طرز کےلیے اچھا ہے اسے وہیں موقع دیں۔

سرفراز احمد سے کوچنگ کی ذمہ داری واپس لی گئی تو کہا گیا کہ عبید شاہ کو نہیں کھلایا، اب تو ہیسن نے بھی نوجوان پیسر کو موقع نہیں دیا تو کیا انھیں بھی ہٹا دیا جائے گا؟ محمدعلی نے انگلینڈ سے سیریز میں 18 نوبالز کر دیں، ان کی خامی کوچز نے کیوں دور نہیں کی؟ منصور امجد بطور فیلڈنگ کوچ اتنے برسوں سے مختلف ٹیموں کے ساتھ ہیں، جب سرفراز اور عمر گل کو ہٹا دیا گیا تو وہ کیوں برقرار رہے؟

خیر ابھی کافی سخت فیصلوں کی ضرورت ہے، نئے کھلاڑی ٹیم میں بہت سے آئے لیکن چند میچز بعد بھولی بسری داستان بن گئے، آذان اویس اور عبداللہ فضل کی صورت میں اچھے بیٹرز ملے، اب رضااللہ ایسا کھلاڑی ملا جسے آل راؤنڈر بنایا جا سکتا ہے۔

ٹیسٹ ٹیم آئی سی سی چیمپئن شپ میں آخری نمبر پرہے، آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا میں لگاتار 19 ٹیسٹ میں شکست ہو چکی، بیرون ملک 12 میں سے 11 میچز ہم ہار چکے، ایسے میں کرکٹ کے مستقبل پر فکرمند ہونا درست ہے، رضااللہ کی آڑ میں انگلینڈ میں بدترین شکستوں کوچھپانا نہیں چاہیے، بہتری کیلیے اقدامات کریں۔