عمان خفیہ مذاکرات؛ حوثیوں کی امریکی اور اسرائیلی جہازوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی

ہدف صرف سعودی جہاز ہیں، عمان میں امریکی نمائندوں کیساتھ خفیہ ملاقات میں حوثیوں نے اپنا مؤقف پیش کردیا


ویب ڈیسک September 16, 2026

امریکی حکام اور یمن کے حوثی گروپ کے نمائندوں کے درمیان گزشتہ ہفتے کے اختتام پر عمان میں ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس ملاقات سے واقف 5 ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ غیر اعلانیہ ملاقات عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکی سفارتخانے میں ہوئی۔

ان پانچ ذرائعوں میں سے تین نے فریقین کے درمیان براہ راست ملاقات کی تصدیق کی جبکہ دو نے بتایا کہ عمانی حکومت نے فریقین کے درمیان براہِ راست بات چیت کے انتظام میں کردار ادا کیا۔

رائٹرز سے گفتگو میں ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اس خفیہ ملاقات میں حوثی نمائندوں نے امریکی حکام کو بتایا کہ ان کا امریکی بحری جہازوں پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ امریکا کے ساتھ مئی 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہیں۔

ایک یمنی ذریعے نے بتایا کہ حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیلی بحری جہازوں یا دیگر تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ نہیں بنائیں گے تاہم سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو اس یقین دہانی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے اس خفیہ ملاقات کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی اور امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ملاقات سے متعلق سوالات کا براہِ راست جواب نہیں دیا تاہم اس نے بحیرۂ احمر میں بحری سکیورٹی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ حوثیوں نے ان کی انتظامیہ سے رابطہ کرکے امریکا سے یمن کی جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پیر کو تصدیق کی تھی کہ حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہیں تاہم انھوں نے اس رابطے کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں۔

خیال رہے کہ امریکی اور حوثی نمائندوں کی عمان میں ہونے والی یہ خفیہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جھڑپوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں اہم مقامات پر بھی قبضہ کرلیا ہے جن میں المخا بندرگاہ اور باب المندب کے قریب واقع جزیرہ پریم بھی شامل ہیں۔

حوثیوں اس پیش قدمی نے بحیرۂ احمر میں عالمی تجارتی جہاز رانی کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ کی سیکیورٹی کے خدشات بڑھا دیے ہیں

یاد رہے کہ امریکا اور حوثیوں کے درمیان 2025 میں شدید کشیدگی کے بعد جنگ بندی طے پائی تھی۔ اس سے قبل امریکا نے یمن میں حوثی اہداف کے خلاف فضائی کارروائیاں کی تھیں۔ موجودہ رابطوں میں اسی جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔