سعودی سرحد کے قریب یمنی فورسز اور حوثیوں میں گھمسان کی جنگ شروع

تازہ جھڑپوں میں دونوں جانب سے متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں


ویب ڈیسک September 16, 2026
یمن کے علاقے الجوف میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان جاری لڑائی کی ایک جھلک۔

یمن میں سعودی عرب کی سرحد کے قریب سرکاری فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں شدید ہوگئی ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز نے الجوف کے علاقے میں حوثیوں کے خلاف پیش قدمی شروع کردی۔

اے ایف پی کی فوٹیج میں بکتر بند گاڑیوں اور فوجی ٹرکوں کو صحرائی علاقے میں آگے بڑھتے دیکھا جاسکتا ہے جہاں فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔

یمنی حکومت کی پانچویں بریگیڈ کے آپریشنز کمانڈر ولید المہاجری نے وہاں موجود اے ایف پی کے صحافی کو بتایا کہا کہ حوثی جنگجو مختلف محاذوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ فرسٹ ڈویژن کی ایمرجنسی فورسز اللبنات کے محاذ پر آگے بڑھ رہی ہیں اور حوثیوں کے ٹھکانوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

دوسری جانب حوثیوں نے بھی الجوف میں جاری لڑائی کی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں ان کے جنگجوؤں کو یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے خلاف کارروائی کرتے دکھایا گیا۔

تاہم جنگ کے دوران جاری ہونے والی فریقین کی ویڈیوز اور دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

قبل ازیں حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے جنگجوؤں نے یمن کے صوبہ مأرب کی فضائی حدود میں سعودی عرب کا ایف-15 جنگی طیارہ مار گرایا۔

تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس ایف-15 طیارے کے مار گرائے جانے کی تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہمیت

یمن کی تازہ لڑائی محض زمینی محاذ تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات بحیرہ احمر اور باب المندب تک پہنچ رہے ہیں۔

باب المندب عالمی تجارت کے اہم سمندری راستوں میں شامل ہے اور موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کے لیے بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر کے آغاز سے یمن میں تازہ لڑائی کے باعث تقریباً 82 ہزار افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ اتحادی افواج کے درمیان 2014 سے جھڑپوں کا سلسلیہ جاری ہے تاہم 2022 میں جنگ بندی کے بعد نسبتاً کمی آئی تھی جو رواں برس جولائی سے دوبارہ اور زیادہ شدت سے شروع ہوگئیں۔