صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو پاکستان واشگاف الفاظ میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا، خواجہ آصف

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ معاہدے کے تحت جارحیت کا مقابلہ کریں گے اور میرے خیال میں صورت حال بالکل آچکی ہے، وزیردفاع


ویب ڈیسک September 16, 2026
فوٹو: فائل

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کرجاتی ہے اور لڑائی میں توسیع ہوتی ہے تو پاکستان اور ترکیہ واشگاف الفاظ میں عملی اور سفارتی طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ایک سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ دفاعی معاہدے میں بڑے واضح طور پر پوزیشن ہے کہ کوئی ملک اس سہ فریقی معاہدے میں اس کی سلامتی یا جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی ہو تو باقی دونوں ملکوں پر بھی یہ لاگو ہوگا اور تینوں ممالک مل کر اس جارحیت کا مقابلہ کریں گے اور میرے خیال میں وہ صورت حال بالکل آچکی ہے۔

خواجہ آصف نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ صورت حال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو پھر ترکیہ اور پاکستان بھی سعودی عرب کے ساتھ واشگاف الفاظ میں اور سفارتی طور پر بھی کھڑے ہوں گے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اگر معاہدہ نہ بھی ہو مگر سعودی عرب اور خاص طور پر ہمارے مقدس مقامات پر حملہ ہو تو ہم پابند ہیں اور خدا کے گھر مدینہ منورہ کی حفاظت ہمارا مذہبی فریضہ ہے، دنیاوی معاہدے ہوتے ہیں اور اس کی اہمیت بھی ہوتی ہے، ہم اس کو بھی مانتے ہیں لیکن خانہ خدا اور جس شہر میں حضورﷺ کی ولادت ہوئی ہے، وہاں حملہ ہوگا تو کوئی بھی مسلمان دنیا میں جہاں بھی بیٹھا ہوگا اس کو کسی معاہدے کا انتظار یا کسی معاہدے کو فعال کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کا تحفظ ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ایک دنیاوی معاہدہ بھی ہے، اس کے بھی شرائط ہیں وہ بھی پورے کریں گے، چاہے ہماری مذہبی محبت، احترام اور تقدس کا رشتہ ہے ہر حال میں پورا ہوگا اور ہمارا سعودی عرب کو تحفظ دینے یا سعودی عرب کا پاکستان کو تحفظ دینے یا ترکیہ کو دونوں کو تحفظ دینے اور ہم دونوں پاکستان اور سعودی عرب کا ترکیہ کو تحفظ دینے کے باہمی معاہدے کے تحت ایک دوسرے کو تحفظ دیں گے اور دونوں صورتیں ہم پر لاگو ہوتی ہیں اور ہم اپنے اس فرض کو ان شااللہ ادا کریں گے’۔

حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کا ساتھ دینے کی صورت میں ایران کے ساتھ تعلقات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘میرا خیال ہے کہ ایران کسی تھرڈ پارٹی چاہے ان کے ساتھ ان کی ہمدردی ہو کوئی بھی ان کا تعلق واسطہ ہو کیونکہ عملی طور پر معاہدہ تو کوئی نہیں ہے لیکن یمن کے اندر جو بھی خلفشار ہے تو کسی کی اگر سائیڈ لے رہے ہیں تو وہ یمن میں لڑنے والے مخصوص گروپ کی وجہ سے دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کریں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘حوثی سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں ایسی صورت میں ایران سائیڈ لے تو میری نظر میں عقل مندی والی بات نہیں ہوگی اور اس کے امکانات بھی بہت کم ہیں، ساتھ ہی پاکستان نے بھی پیغام بھیجوا دیا ہے اور سعودی عرب نے بھی مطلع کیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسی صورت حال میں جب ‘ایران کی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ خلیج جنگ نازک امن کے ساتھ غیریقینی کے صورت حال پر کھڑی ہے تو ایسے میں ایک اور نیا محاذ کھولنا یا توسیع دینے کے بجائے دانش مندی کا تقاضا یہی ہے اس کو بڑھایا نہ جائے اور بڑے خلفشار میں تبدیل نہ کیا جائے’۔