منگھوپیر میں گھر کے اندر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر نوجوان کے قتل میں ملوث ملزمان کا 10روز بعد بھی تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا تاہم ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے عندیہ دیا ہے کہ شواہد اکھٹے کرلیے ہیں اور جلد کیس میں پیشرفت ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق منگھوپیر میں گھر کے اندر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر نوجوان کے قتل میں ملوث ملزمان کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔
نوجوان 16 سالہ روشم خان قتل کے خلاف اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کی جانب سے منگھوپیر تھانے کے سامنے دیئے جانے والا احتجاجی دھرنا دسویں روز بھی جاری رہا جبکہ آج بھی متوفی کی تدفین نہیں کی گئی۔
احتجاجی دھرنے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانب سے شرکت بھی کی جا رہی ہے۔ مقتول نوجوان روشم کے قتل پر ان کے والد روائیداد خان کا کہنا تھا کہ میرا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بیٹے تدفین اس وقت تک نہیں کرینگے جب تک میرے لخت جگر کے قاتل گرفتار نہیں ہو جاتے۔
ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان کے جاں بحق ہونے پر مقتول کے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کی جانب سے منگھوپیر تھانے کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا گیا جو تاحال جاری ہے۔
مظاہرین کی جانب سے بھی یہی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نوجوان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے واضح رہے کہ 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب منگھوپیر مہران سٹی میں ڈاکوؤں نے گھر میں گھس کر ڈکیتی کی واردات کی تھی جس میں پولیس وردی ملبوس افراد بھی شامل تھے اور مزاحمت پر گھر کے اندر کی گئی فائرنگ سے حافظ قرآن 16 سالہ روشم خان جان کی بازی ہار گیا تھا۔
اُدھر سرجانی ٹاؤن واقعے میں ملزم کی گرفتاری سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے بتایا کہ منگھوپیر واقعے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد اس میں اہم پیشرفت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ روشم خان کے قتل کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس میں لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا، خصوصی ٹیمیں کیس پر دن رات کام کررہی ہیں۔