لفظ ماں سنتے ہی کانوں میں لوریاں گنگنانے لگتی ہیں اور دل میں محبت کا ایک سمندر موجزن ہوجاتا ہے، کیونکہ ماں محض ایک رشتہ نہیں، ایک جذبہ، ایک تحفظ اور ایک ایسی پناہ گاہ کا نام ہے جہاں انسان خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔
کیا ریاست بھی ماں ہوسکتی ہے؟ ریاست اس دھرتی کا نام ہے جس پر ہم نے جنم لیا ہو یا جسے ہم نے اپنا وطن تسلیم کیا ہو۔ یقیناً دھرتی ماں ہی ہوتی ہے، اسی لیے اس کے بیٹے اس کی حفاظت کے لیے ہر وقت جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں۔ اس پر میلی نظر ڈالنے والے کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور اگر اس راہ میں جان بھی چلی جائے تو اسے اپنی خوش بختی سمجھتے ہیں، کیونکہ ماں کی عظمت، حرمت اور توقیر پر قربان ہونے والے کو شہید کہا جاتا ہے۔
یہ تو ریاست کی حفاظت اور ناموس کے حوالے سے شہریوں کی ذمے داری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کی بھی اپنے شہریوں کے ساتھ کوئی ذمے داری ہوتی ہے؟ یقینا ہوتی ہے۔ ریاست کی ذمے داری اس کے آئین اور قوانین میں پنہاں ہوتی ہے، مگر ان قوانین کی اصل روح شہریوں کو وہ احساس تحفظ دینا ہے جو دن کو چین اور رات کو سکون فراہم کرتا ہے۔ ریاست کا شہری جب دنیا کے کسی کونے میں مشکل میں پھنس جائے تو اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کے پیچھے اس کا ملک کھڑا ہے۔
یہ احساس میں نے ہالی ووڈ کی فلموں میں کئی مرتبہ دیکھا ہے اور اب ہمارے پڑوسی ملک کی فلموں میں بھی کسی نہ کسی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔ کوئی شخص کسی دوسرے ملک میں مشکل میں پھنس جاتا ہے، جہاں زبان کا مسئلہ ہے، شناخت یا پاسپورٹ کا مسئلہ ہے اور اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح اسے اپنے ملک کے سفارت خانے تک پہنچا دیا جائے اور جب وہ اپنے ملک کے سفارت خانے کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو اس کے چہرے پر جو اطمینان آتا ہے، وہ مجھے ہمیشہ ماں کی آغوش میں آنے والے بچے کے اطمینان کی یاد دلاتا ہے۔
ایسی فلم دیکھتے ہوئے میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم پاکستانیوں کی زندگی میں ایسا اطمینان کب آئے گا؟ ہم کب اپنی ریاست پر اعتماد کریں گے اور ریاست کب اپنے شہریوں پر اسی اعتماد کا اظہار کرے گی؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اطمینان قلب اور ذہنی سکون کبھی یک طرفہ نہیں ہوتے۔ ریاست اور شہری، دونوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ حقوق اور ذمے داریاں دونوں طرف ہوں تو ہی اعتماد کی وہ شاہراہ تعمیر ہوسکتی ہے جس پر ریاست اور اس کے شہری ایک ساتھ سفر کرسکیں۔
جس طرح گھر کی بنیادی اکائی فرد ہے، اسی طرح افراد کے مجموعے سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ جب یہ معاشرہ مشترکہ اقدار، باہمی اعتماد اور یکجہتی کے بندھن میں بندھ کر ایک سمت اختیار کرتا ہے تو رفتہ رفتہ قوم کے سانچے میں ڈھلنے لگتا ہے، لیکن اگر اس پورے ارتقائی سفر میں ہم اپنا کردار دیکھیں اور اس کے نتیجے میں بننے والی اجتماعی شکل آئینے میں دیکھیں تو شاید ہمیں اپنا چہرہ اتنا بھیانک نظر آئے کہ ہم خود اس کا سامنا کرنے سے گریز کریں۔
ہم نے ریاست کے وجود کو پہلے جھوٹے دعوؤں سے نوچا، جھوٹے وعدوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے، پھر کبھی سوشلزم، کبھی مذہب اور کبھی جمہوریت کے نام پر اسے پامال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہمارے یہاں جمہوریت بھی بعض اوقات بہترین انتقام کا روپ دھار چکی ہے اور ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ اس انتقام سے خود کو کیسے بچائیں۔ اس سے بڑا لطیفہ اور کیا ہوگا کہ ہمارے ہاں جمہوریت میں بھی موروثیت ہے اور شاید یہی ہماری ملک کی حقیقی جمہوریت ہے۔
مگر حالات اب بدل چکے ہیں۔ نہ یہ 1970 ہے، نہ 1980۔ دنیا بھی بدل گئی ہے، عوام کی سوچ بھی اور معلومات تک رسائی بھی بدل گئی مگر حکومت کو اس کا شاید ادراک نہیں ہے۔ اب اگر ارباب اختیار چاہتے ہیں کہ عوام ریاست کو ماں کا تقدس اور احترام دیں، اس کے قوانین کی پاسداری کریں اور اپنی مالی و غیر مالی ذمہ داریاں پوری کریں تو ریاست کو بھی اپنی ذمے داری پوری کرنا ہوگی۔ ریاست کے وسائل جمع کرنے کی ذمے داری صرف عوام پر اور ان وسائل کو خرچ کرنے کا اختیار صرف اشرافیہ کے پاس نہیں ہوسکتا۔
قربانی صرف عوام کیوں دیں؟ اگر عوام سے مزید قربانی مانگی جارہی ہے تو اشرافیہ کو بھی اپنے لوازمات، مراعات اور اخراجات میں کمی کرنا ہوگی، اگر عوام سے ٹیکس مانگا جارہا ہے تو ریاست کو اپنے اخراجات کا بھی حساب دینا ہوگا۔ وسائل جمع کرنے میں عوام کا ہاتھ بٹانے کے ساتھ ساتھ ریاست کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ عوام کی قربانیوں سے حاصل ہونے والے وسائل عوام ہی کے بہتر مستقبل پر خرچ ہورہے ہیں۔
مانا کہ حکمرانوں کے کسی بزرجمہر نے انھیں بلواسطہ ٹیکسوں، بجلی، پٹرولیم اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں حسبِ منشا اضافے کا نسخہ سکھا دیا ہے، مگر یہ نسخہ نہ دیرپا ہے اور نہ دوررس۔ عوام کی کمر پر مسلسل بوجھ ڈالتے رہنا کوئی معاشی پالیسی نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اگلا اضافہ اس اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوجائے جو پہلے ہی اپنی حد سے زیادہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔
کالم کا اختتام ایک کہانی سے کرنا چاہوں گا۔ کہتے ہیں پیرس کی ایک بڑی دکان میں ایک صارف ایک نئی سیلز گرل سے بدتمیزی کررہا تھا۔ لڑکی نئی تھی، گھبراہٹ میں اس سے کچھ غلطیاں بھی ہورہی تھیں اور اسی حساب سے صارف کی بدتمیزی بھی بڑھتی جارہی تھی۔ یہ دیکھ کر دکان کا منیجر آگے بڑھا اور صارف سے کہا’’آپ تشریف لے جاسکتے ہیں۔ ہم آپ جیسے بدتمیز لوگوں کو اپنی خدمات پیش نہیں کرتے۔‘‘ پھر اس نے لڑکی سے کہا کہ ’’ تمہیں بہت پہلے ان صاحب سے یہ کہہ دینا چاہیے تھا۔‘‘ صارف غصے سے بولا۔’’میں صارف ہوں اور صارف بادشاہ ہوتا ہے۔‘‘ منیجر نے جواب دیا ’’یقینا صارف بادشاہ ہوتا ہے، لیکن یہ فرانس ہے اور فرانس میں بادشاہ کو تختے پر بھی چڑھایا جاچکا ہے۔‘‘
وقت کو سمجھ لیجیے، اس سے پہلے کہ وقت ہمیں بدل دے۔ یہ محض ایک کہانی ہے، مگر سمجھنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ وقت بدل گیا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اسے تسلیم کرلیں۔ وقت کا کام چلتے رہنا ہے، اگر ہم وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلیں گے تو وقت ہمیں بدل دے گا اور وقت کی لائی ہوئی تبدیلی ہمیشہ ہمارے لیے خوش آئند نہیں ہوتی۔ اس لیے اس وقت کے آنے سے پہلے بہتر ہے کہ ریاست اور اس کے بچوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ ازسر نو استوار کیا جائے۔ ریاست اپنے بچوں کو تحفظ، انصاف، عزت اور مواقع دے اور بچے اپنی ریاست کو وفاداری، قانون کی پاسداری، محنت اور وسائل فراہم کریں، تب ہی ماں اور بچے ایک دوسرے کے سائے میں اس جنت نظیر ملک میں سکھ، امن اور آشتی کے ساتھ رہ سکیں گے۔