وہ فلم جس نے اسرائیل کو ہلا ڈالا

کم ازکم میری یادداشت میں تو نہیں کہ کسی دستاویزی فلم کے لیے مجمع نے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر مسلسل پچیس منٹ تالیاں بجائی ہوں۔


وسعت اللہ خان September 19, 2026

کم ازکم میری یادداشت میں تو نہیں کہ کسی دستاویزی فلم کے لیے مجمع نے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر مسلسل پچیس منٹ تالیاں بجائی ہوں۔گذشتہ ہفتے وینس کے عالمی فلمی میلے میں غزہ میں نسل کش مشین کے چہرے سے نقاب اٹھانے والی ایک دستاویزی فلم ’’ نازا‘‘ نے نہ صرف اسپیشل جیوری انعام جیتا بلکہ گذشتہ برس کی ہی ایک فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کی سراہنا کے لیے بائیس منٹ تک بجنے والی تالیوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

(ہند رجب وہ چھ سالہ بچی ہے جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فیملی کار میں قتل ہونے والے پورے خاندان میں زندہ بچ گئی اور کئی گھنٹے مدد کے لیے اپنے والدین کے فون سے امدادی رضاکاروں کو کال کرتی رہی اور پھر ایک ٹینک نے کار کو ہند رجب سمیت کچل دیا )۔

’’ نازا ‘‘ دو اسرائیلی فلم میکرز یووال ابراہام اور ریچل شور نے بنائی ہے۔نازا عبرانی اصطلاح نیزک اگاوی ( اجتماعی نقصان ) کا مخفف ہے۔اسرائیلی فوج نے یہ اصطلاح غزہ پر حملوں میں بکثرت استعمال کی۔ یعنی کسی بھی فضائی حملے میں کتنا ممکنہ جانی نقصان (کولیٹرل ڈیمیج ) ہو سکتا ہے۔( کسی ایک مشکوک شخص کو قتل کرنے کے لیے سیکڑوں مکینوں پر مشتمل پورے پورے رہائشی بلاک اڑا دئیے گئے )۔

 فلم بس اتنی ہے کہ تل ابیب کی ایک چھت پر نیم اندھیرے میں چوبیس اسرائیلی فوجی اور ملٹری انٹیلی جینس اہلکار غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت میں اپنے اپنے کردار کے بارے میں بتا رہے ہیں ( ان اہلکاروں کی سلامتی کے پیشِ نظر فلم میں ان کی شکلیں اندھیرے میں رکھی گئیں اور ان کی آواز بھی بدلی گئی ) ۔

دونوں ڈائریکٹرز نے اس موضوع پر فلم بنانے کا سبب یہ بتایا کہ دنیا کے روبرو یہ حقیقت آنی چاہیے کہ فلسطینیوں کی نسل کشی محض کسی غصے یا انتقام کی وقتی خواہش کی پیداوار نہیں بلکہ اسے باقاعدہ ایک پالیسی کے تحت مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا گیا۔اس فلم میں نسل کشی کی مشین کے کل پرزے ( حقیقی کردار ) گفتگو کر رہے ہیں۔یہ دستاویزی فلم نسل کشی کی ایک اور ٹھوس گواہی ہے۔

فلم ڈائریکٹرز نے کہا کہ کسی انسانیت سوز جرم سے مکرنا ایسے ہی دیگر جرائم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ خود اسرائیلی شہری اس فلم کو دیکھ کر سمجھ سکیں کہ ان کے تحفظ کے نام پر کیا کیا گل کھلائے جا رہے ہیں۔( ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کا انڈیپینڈنٹ کمیشن متفق ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارے پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے )۔

نازا کے دونوں فلم میکر مقبوضہ مغربی کنارے میں فوج اور آبادکاروں کی سینہ زوری کے موضوع پر دو ہزار چوبیس میں ریلیز ہونے والی آسکر انعام یافتہ فلم ’’ نو ادر لینڈ ‘‘ کی ڈائریکشن ٹیم کا بھی حصہ تھے۔

وینس فلم میلے میں نازا کے بھرپور استقبال پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سب سے پہلے اسرائیلی وزیرِ ثقافت مکی زوہار نے کہا کہ حکومت دونوں ڈائریکٹرز یووال ابراہام اور ریچل شور کی شہریت منسوخ کرنے پر غور کر رہی ہے کیونکہ دونوں نے فلمی میلے میں جمع یہود دشمنوں سے محض اپنے لیے چند تالیاں پٹوانے کی خاطر ملک سے غداری کی۔قومی سلامتی کے وزیر بین گویر نے لکھا کہ دونوں فلم میکر لعنت کے مستحق ہیں۔ انھیں چاہیے کہ فوراً یہاں سے بوریا سمیٹ کر اپنے حماسی دوستوں کی پھیلی بانہوں میں گر جائیں۔

وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اپنے وڈیو پیغام میں کہا کہ ایسے وقت جب ہم یہود دشمنی کی عالمی لہر سے نبرد آزما ہیں ، نازا جیسی فلم کی صورت میں ہمارے ہی دو شہری دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں اور اپنی ہی فوج کو جنگی مجرم ثابت کر کے فلمی میلوں میں داد و تحسین بٹور رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ قانون سازی کریں گے کہ مسلح افواج کو بدنام کرنے والے کسی بھی شخص کی نہ صرف شہریت منسوخ کی جائے بلکہ اسے ہتکِ عزت کا جرمانہ بھی اوروں سے بیس گنا زائد بھرنا پڑے۔

نیتن یاہو نے اس ضمن میں دو اور نام بھی لیے۔ یعنی سابق جنرل اور موجودہ سیاسی حریف یائر گولان جنہوں نے گذشتہ برس کہا تھا کہ کوئی ہوش مند ریاست بچوں کو تفریحاً قتل نہیں کرتی۔نیتن یاہو نے دوسرا نام سابق ملٹری ایڈووکیٹ جنرل میجر جنرل یفات یوروشلامی کا لیا جنہوں نے دو ہزار چوبیس میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں غزہ کے ایک فلسطینی قیدی کی ریپ وڈیو افشا کی تھی۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے بھی اس فلم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فوج سب کچھ برداشت کر سکتی ہے مگر تہمت نہیں۔ فوج اس فلم کے کرداروں اور بنانے والوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت سے رجوع کر رہی ہے۔

سرکار نواز صحافی بھی فلم نازا کی مذمت میں پیش پیش ہیں۔چینل فورٹین کے پریزنٹر یہودا شلنگر نے مطالبہ کیا ہے کہ فلم میکرز جہاں بھی جائیں ان کا تعاقب کیا جائے۔اس فلم کے لیے پچیس منٹ تک وینس فلمی میلے میں تالیاں بجانے والے یہود دشمنوں کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے فلم کے ایک ہدائیت کار یووال ابراہام کی والدہ کی تصویر بھی مشتہر کر دی ہے اور اس نے اپنے پرستاروں سے اپیل کی ہے کہ اگر ابراہام ایرپورٹ پر اترے تو اس کا ’’ شاندار ‘‘ استقبال کیا جائے۔

اشدود شہر میں ایک دیوار پر دونوں فلم میکرز کی بڑی سی میورل بنائی گئی ہے۔ان کے سر پر سینگ ہیں اور سینے پر نازی سواستیکا بنا کے غدار لکھا گیا ہے۔اس ردِعمل کو دیکھتے ہوئے فلم میکر یووال ابراہام نے کہا کہ اسرائیل میرا وطن ہے مگر فی الحال میں واپسی کے تصور سے خوفزدہ ہوں۔

وزیرِ قومی سلامتی بین گویر کے حامی مظاہرین نے فلم میکر ریچل شور کے والدین کے گھر کا محاصرہ کیا۔وہ نعرے لگا رہے تھے غداروں کے گھر مسمار کرو اور پھانسی دو۔

تاہم اسرائیل میں پیس ناؤ ، عدالہ ، بیت سلیم ، فزیشنز فار ہیومن رائٹس اور بریکنگ دی سائلنس سمیت انسانی حقوق سے منسلک تینتالیس تنظیموں ، لگ بھگ ڈیڑھ ہزار اسرائیلی فلم سازوں اور انسانی حقوق کے متعدد بین الاقوامی اداروں نے ان فلم میکرز سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی ریاست سے ان کے جانی تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

مزے کی بات ہے کہ جو اسرائیلی اس فلم پر چراغ پا ہیں ان میں سے اکثر نے صرف فلم کا ٹریلر دیکھا ہے۔انسانی حقوق تنظیموں نے اس فلم کی اسرائیل میں نمائش کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ عام لوگ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے خود اس فلم کو بطور ناقد پرکھ کر حمائیت یا مخالفت کا فیصلہ کر سکیں۔ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی ایک فلم پر نزلہ گرانے سے بہتر ہے کہ غزہ میں نسل کشی اور اس کے اسباب کے بارے میں شفاف چھان پھٹک کروائی جائے۔حکومت اور اس کے حامی فلم کی مخالفت میں جتنا شور مچائیں گے اس کی بین الاقوامی پذیرائی اتنی ہی بڑھے گی۔

اگر یہ سامنے کی موٹی سی بات بھی حکومتوں کی سمجھ میں آسانی سے آ جائے تو پھر رونا کس بات کا۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجئے)