نئے صوبوں کے کچھ مخالفین پاکستان کو نہیں مانتے، باقی مفاد پرست ہیں، مصطفی کمال

نئے صوبوں کو جو لیڈ کرے گا وہ ہمارا لیڈر ہوگا، وہ لیڈر وزیراعظم یا فیلڈ مارشل ہوں گے، رہنما ایم کیو ایم پاکستان


فاران خان September 19, 2026
فوٹو: فائل

کراچی:

وفاقی وزیر مصطفی کمال نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے کچھ مخالفین پاکستان کو نہیں مانتے اور باقی اپنے مفاد میں مخالفت کررہے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے نئے صوبوں، سندھ کی صورتحال، عوامی مسائل اور سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی سمیت مختلف امور پر پارٹی کا مؤقف بیان کیا۔  اس موقع پر ڈاکٹر صغیر احمد بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ایک ہے ۔ حرمین شریفین میں اس وقت جو جنگ چل رہی ہے، ایم کیو ایم پاکستان اس کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گناہ گار مسلمان ہیں لیکن اپنی حکومت اور پاک فوج کے ساتھ ہیں، رہنمائی ملتے ہی اس پر عمل کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کے ناتے یہ ہمارے جذبات ہیں ، ہم اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں۔ سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

نئے صوبوں کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس معاملے پر بہت ساری گفتگو سنی ہے، اسے کوئی بھی عنوان دے دیں، وہ اسے نئے صوبے ہی کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ نئے یونٹس کی مخالفت کرتے ہیں، ان میں کچھ ایسے ہیں جو پاکستان کو بھی نہیں مانتے، جبکہ باقی لوگ اپنے مفاد کے لیے اس کی مخالفت کررہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے سندھی بھائیوں کے دماغ میں بغض ڈالا جارہا ہے اور یہ بات ذہن میں بٹھائی جارہی ہے کہ نئے صوبے بننے سے قتل و غارت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اس شہر (کراچی) کا جو حال کردیا گیا ہے، وہ بھی عوام کے لیے اذیت سے کم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچے گٹر میں گر کر مررہے ہیں، کیا یہ ظلم نہیں؟ بچوں کو ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی لگایا گیا ، سندھ میں بچوں میں ایڈز پھیلایا گیا، یہ سب بھی عوام کے ساتھ قتل و غارت ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں پر یہ کہنا کہ قتل و غارت ہوگی، ناجائز بات ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ کے تمام لوگ ان کے بھائی بہن ہیں ۔ سندھ کی صورتحال کراچی سے بھی زیادہ خراب ہے، یہاں تک کہ پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے بھائی، بہن اور بچے وہاں سے پانی پیتے ہیں،جہاں جیسے جانور پانی پیتے ہیں، یہ سندھ کا حال ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص یہ بات کررہا ہے کہ نئے صوبوں سے قتل و غارت ہوگی، وہ سراسر غلط بات کررہا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس شہر میں ماضی میں قتل و غارت ہوا کرتی تھی، لیکن اب وہ چیز ختم ہوچکی ہے۔ ماضی میں ہونے والی قتل و غارت ختم کرانے والی ایم کیو ایم پاکستان ہے جو عوام کے سامنے بیٹھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی خاطر یہ کام کیا گیا، پہلے اپنے لیڈر کو سمجھایا، جب بات نہیں بنی تو اپنا لیڈر ہی چھوڑ دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کوئی ایسی جماعت دکھائیں جس نے اپنا لیڈر چھوڑا ہو۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اندرون سندھ کے رہنے والے سب سے معصوم لوگ ہیں۔ سندھ کی کتنی مائیں اور بہنیں سڑکوں پر بیٹھی ہیں، ان کے بچوں کو اغوا کیا گیا ہے، یہ اندرون سندھ کے ساتھ ظلم ہے۔ سندھ کے عوام کی بڑی تعداد ایم کیو ایم کے ساتھ ہے۔ سندھ میں بڑے بڑے بزرگوں کے نام ہیں، اگر ایم کیو ایم والے سندھیوں کا برا سوچیں گے تو وہ ان بزرگوں کو کیا جواب دیں گے، جو ان کے بڑے ہیں۔ اب یہ تعصب نہیں چلے گا کہ سندھی اور مہاجر کیا ہے۔

نئے صوبوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کی بات ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے آئین میں لکھی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ملک ریاست سے بددل لوگ پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ 70 سال سے عوام کو فوج سے لڑایا جارہا ہے۔ یہ مسئلہ اب سر اٹھا کر بولنے لگا ہے۔ آج ہمارے فیلڈ مارشل کو پوری دنیا میں پذیرائی حاصل ہورہی ہے ، فیلڈ مارشل پوری دنیا میں مذاکرات کررہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ بار بار کہتے ہیں کہ 18ویں ترمیم نے 4 نئے ملک بنا دیے ہیں۔ یہ آزادی کا اعلان اس لیے نہیں کرتے کہ انہیں ڈھائی ارب روپے ملتے ہیں، اگر صوبوں کا اعلان ہوجائے تو انہیں یہ خزانہ ملنا بند ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم تو اس ملک کو دوبارہ جوڑنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو اس وقت غصہ نہیں آتا جب شہر کا بچہ گٹر میں گرتا ہے، یلو لائن بنانے والا ورلڈ بینک کا پیسہ کھا گیا اور صوبائی حکومت نے وہ لوٹے ہوئے پیسے ورلڈ بینک کو واپس کیے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اس بات پر غصہ نہیں آتا۔

انہوں نے گل پلازہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ  5 دن تک جلتا رہا اور میئر 2 دن بعد وہاں آیا، لیکن اس بات پر بھی غصہ نہیں آتا۔ ان کے اندر موجود بغض اور نفرت نکل کر باہر آرہی ہے۔ انہیں نظر آگیا ہے کہ ان کا سورج ڈوبنے والا ہے ، عوام ان سے ہر چیز کا جواب لیں گے۔ مخالفین کو اس چیز سے ڈر ہے جس کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم سندھ کے کسانوں کو آزاد کرانے جارہے ہیں ۔ نئے صوبے تمام مظلوموں کو آزاد کرائیں گے۔ نئے صوبے سندھیوں کو مزید عروج پر لے جائیں گے، اس کو لیڈ کرنے والا ہمارا لیڈر ہوگا، وہ لیڈر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ کسی ٹرک کے نیچے آکر نہیں مریں گے اور بچوں کو گٹر میں گرنے نہیں دیں گے۔  جب مرنا ہی ہے تو ڈٹ کر لڑ کر مریں گے۔

انہوں نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے کمرے ایسے ہیں جیسے دیواریں ڈالر سے بنی ہوں، بڑے بزدل ہوتے ہیں وہ لوگ جو موت سے بے خوف ہوتے ہیں، ان لوگوں کے لیے حرام ہی سب کچھ ہوتا ہے۔

پریس کانفرنس کے بعد سوالات کے جواب دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق کے جن کاموں کا ذکر کیا جارہا ہے، وہ سارے کام کرنے کے ہیں۔ ایک جناح اسپتال وفاق کے پاس تھا، وہ بھی لے لیا گیا۔ اگر وزیراعظم کسی کام میں رکاوٹ بنتے ہیں تو وہ برا کہتے ہیں، لیکن وزیراعظم عوام کے لیے کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد خون کی نہریں بہہ رہی ہیں، حقیقت میں تو دودھ کی نہریں بہنی چاہییں تھیں۔ وفاق نے ایک غلط کام کیا کہ صوبائی حکومت کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم نہ کبھی پہلے استعمال ہوئی ہے اور نہ آئندہ کوئی ایم کیو ایم کو استعمال کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم قرض دار ہے، انہوں نے یا عوام نے یہ قرض نہیں لیا۔ آئی ایم ایف کی شرائط اتنی ہیں کہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپاتے۔ جو قرض دیتا ہے، اس کی شرائط بھی ماننی پڑتی ہیں۔ آئی ایم ایف جب تک نہیں تھا، اس وقت بھی بے روزگاری بڑھی تھی۔

پنجاب حکومت کی خاموشی سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خاموشی کا مطلب رضامندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ لوگ خاموش ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سمجھدار لوگ ہیں۔