شہر قائد کے علاقے منگھوپیر گرین سٹی میں 7 اور 8 ستمبر کی درمیان شب گھر کے اندر دوران ڈکیتی ملزم کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 16 سالہ نوجوان کے قاتل 11 روز بعد بھی گرفتار نہ ہوسکے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گرین سٹی منگھوپیر میں گھر کے اندر گھس کر ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 16 سالہ روشم کے قاتلوں کا پولیس تاحال سراغ نہیں لگا سکی ہے، انصاف کے مطالبے اور ملزمان کی گرفتاری کیلیے مقتول کے ورثا اور علاقہ مکینوں کی جانب سے منگھوپیر تھانے کے سامنے 12ویں روز بھی دھرنا جاری ہے۔
دھرنے میں مختلف سماجی شخصیات اور دیگر نے شرکت کر کے اپنے خیالات کا اظہار اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ مقتول نوجوان کے والد روائید خان کا کہنا تھا کہ میرا پہلے روز سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ میرے لخت جگر کے قاتل جب تک گرفتار نہیں ہوتے اُس وقت تک تدفین نہیں کروں گا اور احتجاجی دھرنا جاری رہیگا چاہے اس میں کتنا ہی وقت لگ جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس حکام سے تاحال رابطے میں ہوں ، کراچی کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں ، مقتول بیٹے روشم خان کے قاتل گرفتار ہونے پر ہی اس کی تدفین کی جائیگی۔
اس موقع پر مختلف مقررین نے کہا کہ اگر مقتول نوجوان روشم خان کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے تو وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر بھی احتجاج کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ اور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ مقتول نوجوان روشم کے والد روئیداد خان سے ملاقات کر کے اظہار تعزیت اور روشم قتل کیس سے متعلق تفتیش سے متعلق پیش رفت سے انھیں آگاہ بھی کیا تھا تاہم مظاہرین کی جانب سے مقتول نوجوان روشم خان کے قاتلوں کی گرفتاری تک منگھوپیر تھانے کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کے عزم کا اظہار گیا جو تاحال بارہویں روز بھی جاری رہا جس میں شرکا کی آمد کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے ۔