انقرہ: ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا حصہ بنانا ناقابل قبول ہے، کیونکہ ریاض خود اس تنازع میں شامل ہونا نہیں چاہتا۔
رائٹرز کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے ٹی وی چینل این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ نے جنگ ختم کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں تک بعض تجاویز بھی پہنچائی ہیں، تاہم انہوں نے ان تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ہاکان فیدان نے کہا کہ یمن کے حوثیوں کے جاری حملوں کے باعث سعودی عرب کو بعض فوجی ضروریات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت ریاض کی ان ضروریات کا جائزہ لے گا۔
ترک وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھی اس تنازع کے ممکنہ اثرات سے دوچار ہیں۔
ترکیہ پہلے ہی سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے فریم ورک کا حصہ ہے، جس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔